ٹوکیو ( پاک ترک نیوز) جاپان کی فضائی دفاعی فورس نے سمندر میں گرنے والے امریکی ساختہ طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ڈرون کی بازیابی کا آپریشن شروع کردیا ہے۔جاپانی حکام کے مطابق آر کیو فور بی گلوبل ہاک نامی بغیر پائلٹ طیارہ گزشتہ ماہ جاپان کے شمالی ساحلی علاقے میں لاپتا ہوگیا تھا، بعد ازاں اس کے سمندر میں گرنے کی تصدیق ہوئی۔ ڈرون کا دھڑ سمندر کی تقریباً 200 سے 300 میٹر گہرائی میں موجود ہونے کا سراغ ملا تھا۔جاپانی فضائی دفاعی فورس کے مطابق جمعے کو ایک امدادی جہاز جائے حادثہ پر پہنچا، جس نے سمندر کی تہہ میں ڈرون کا درست مقام معلوم کرنے اور ملبہ تلاش کرنے کے لیے دور سے چلنے والی زیر آب گاڑی استعمال کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں ڈرون کے ملبے کے چھوٹے حصے نکالے جا رہے ہیں، جبکہ بڑے حصوں کو سمندر سے باہر نکالنے کا عمل اکتوبر کے آخر میں متوقع ہے۔جاپانی حکام کے مطابق یہ ڈرون ستمبر کے وسط میں میساوا فضائی اڈے سے پرواز کے تقریباً 90 منٹ بعد مواصلاتی نظام سے رابطہ قائم کرنے میں ناکام ہوگیا تھا۔ تین منٹ بعد ڈرون ریڈار سے غائب ہوگیا اور آخری بار ٹوٹوری کے ساحل سے تقریباً 50 کلومیٹر دور دیکھا گیا۔گلوبل ہاک تقریباً 60 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرسکتا ہے اور مسلسل 36 گھنٹے تک نگرانی کے مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جاپان ان ڈرونز کے ذریعے شمالی کوریا اور چین سمیت ایشیائی خطے کے مختلف علاقوں کی نگرانی کرتا ہے۔جاپان کی فضائی دفاعی فورس کے پاس ایسے تین ڈرون موجود تھے، جن میں سے ایک حادثے کا شکار ہوگیا۔ باقی دو گلوبل ہاک ڈرونز کو بھی ضروری مشنز کے علاوہ عارضی طور پر زمین پر روک دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین کو 16 رافیل جنگی طیارے دینے کا فرانسیسی وعدہ، طیارے آئیں گے کہاں سے؟
جاپانی حکام کے مطابق حادثے کی وجہ جاننے کے لیے امریکی فوج اور ڈرون تیار کرنے والی کمپنی نارتھروپ گرومین کے ساتھ مل کر تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے تاحال کسی تخریب کاری کا عندیہ نہیں دیا۔جاپانی حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے گلوبل ہاک کی قیمت تقریباً 17 ارب ین، یعنی تقریباً 107 ملین امریکی ڈالر تھی۔ ڈرون کا نقصان جاپان کی طویل فاصلے تک نگرانی کی صلاحیت کے لیے ایک اہم خلا پیدا کرسکتا ہے۔












