ٹوکیو ( پاک ترک نیوز) جاپان نے خاموشی سے سپرسانک اور ہائپرسونک ہوابازی کی دوڑ میں اہم قدم رکھ دیا ، جاپان میں ایسا طیارہ تیار کیا جا رہا ہے جو مسافروں کو ٹوکیو سے نیویارک صرف اتنے وقت میں پہنچا سکتا ہے جتنا وقت امریکا کے مجوزہ نئے کانکورڈ طیارے کو لاس اینجلس سے نیویارک جانے میں لگے گا۔
جاپان نے دنیا کی مشکل ترین فضائی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں غیر معمولی پیش رفت کرتے ہوئے ہائپرسونک انجن ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کیا ہے۔ کاکودا اسپیس سینٹر میں ہونے والا یہ تجربہ جاپان کے پہلے ہائپرسونک کمبسشن ٹیسٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے عالمی ہوا بازی کے شعبے میں نئی بحث چھیڑ دی ۔
میگ فائیو کی رفتار تقریباً 3,800 میل فی گھنٹہ بنتی ہے، جو موجودہ کمرشل طیاروں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ اس رفتار سے ٹوکیو سے نیویارک کا تقریباً 6,730 میل طویل سفر نظریاتی طور پر صرف ایک گھنٹہ 45 منٹ میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔یہ رفتار امریکی کمپنی بوم سپر سونک کے کے مجوزہ سپرسانک طیارے سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے
جاپان کا تجربہ صرف رفتار حاصل کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کا اصل مقصد ہائپرسونک پرواز کے دوران طیارے کی مجموعی کارکردگی کو جانچنا تھا۔ ٹیسٹ کے دوران طیارے کو تقریباً ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑا، جو عام طیاروں کے ڈھانچے کو چند منٹوں میں تباہ کر سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران انجینئرز نے حرارتی تحفظ، ایگزاسٹ درجہ حرارت، طیارے کے ڈھانچے پر گرمی کے اثرات، اور کنٹرول سسٹمز کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ جاپانی ٹیم کے مطابق جدید تھرمل پروٹیکشن سسٹم نے شدید بیرونی گرمی کے باوجود طیارے کے اندرونی حصے کو محفوظ رکھا۔
اس تجربے میں ہائیڈروجن سے چلنے والا انجن استعمال کیا گیا، جو روایتی جیٹ انجنوں سے مختلف ہے۔ یہ انجن طیارے کی انتہائی تیز رفتار کو استعمال کرتے ہوئے ہوا کو کمپریس کرتا ہے، جس سے ہائپرسونک رفتار پر زیادہ مؤثر کارکردگی حاصل کی جا سکتی ہے۔
جاپانی سائنس دانوں نے اس ٹیسٹ کے دوران ہائیڈروجن ایندھن کے ماحولیاتی اثرات کا بھی جائزہ لیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان صرف تیز رفتار طیارے بنانے پر نہیں بلکہ مستقبل میں ماحول دوست ہائپرسونک ٹیکنالوجی تیار کرنے پر بھی کام کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جاپان کا یہ منصوبہ صرف جدید سپرسانک سفر سے آگے کی دنیا کی جھلک دکھاتا ہے۔ اس کی رفتار پر ہوا کا بہاؤ غیر مستحکم ہو جاتا ہے،
شدید شاک ویوز پیدا ہوتی ہیں، اور طیارے کے گرد درجہ حرارت خلا سے واپسی کرنے والے خلائی جہاز جیسا ہو جاتا ہے۔
جاپان کی یہ پیش رفت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ جہاں امریکی کمپنیاں تیز رفتار مسافر بردار پروازوں کی واپسی کی کوشش کر رہی ہیں، وہیں جاپان مستقبل کی اس ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے جو ہوابازی کی دنیا کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔












