یروشلم:(پاک ترک نیوز)اسرائیل نے ایک متنازع قانون منظور کرتے ہوئے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے یواین آر ڈبلیو اے کی سفارتی اور قانونی تحفظ کی حیثیت ختم کر دی ہے، اس کے ساتھ ہی ادارے کو پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کرنے اور مشرقی یروشلم میں واقع اس کے دفاتر ضبط کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
یہ بل پیر کے روز اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں 7 کے مقابلے میں 59 ووٹوں سے منظور ہوا ، اور فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا۔ اس قانون کے تحت اسرائیلی حکام کو UNRWA کی جائیدادیں ضبط کرنے، بینکنگ اور ادائیگی کے نظام بند کرنے اور ادارے کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو جرم قرار دینے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر توانائی و انفراسٹرکچر ایلی کوہن نے قانون کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ UNRWA، حماس کا ’’آپریشنل بازو‘‘ ہے، تاہم اسرائیل اس الزام کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ اقوامِ متحدہ کی تحقیقات، جن میں کولونا ریویو اور OIOS کی تحقیقات شامل ہیں، بھی ان الزامات کی تصدیق کرنے میں ناکام رہیں۔
UNRWA کے سینئر اہلکار جوناتھن فاؤلر نے دی نیو عرب سے گفتگو کرتے ہوئے اس قانون کو ’’مکمل طور پر اشتعال انگیز ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ UNRWA کو ختم کرنے کی ایک منظم اور مربوط مہم ہے، جو اسرائیل کو ان بین الاقوامی معاہدوں سے متصادم کرتی ہے جن پر اس نے خود دستخط کر رکھے ہیں۔
یہ اقدام اکتوبر 2025 میں عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کے اس حکم کی صریح خلاف ورزی ہے، جس میں اسرائیل کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ UNRWA کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے سہولت فراہم کرے، کیونکہ اسرائیل کے خلاف نسل کشی سے متعلق مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
یو این آر ڈبلیو اے کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا: ـیہ اقدام اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دیے گئے UNRWA کے مینڈیٹ کی کھلی توہین اور ICJ کے فیصلے کے برخلاف ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی ہے اور UNRWA کو بدنام اور اس کے بنیادی کردار کو روکنے کی منظم کوششوں کا حصہ ہے۔
لازارینی نے خبردار کیا کہ اقوامِ متحدہ کے اداروں سے بنیادی سہولیات چھیننا اور ان کی جائیدادیں ضبط کرنا ایک خطرناک مثال قائم کرے گا، جو دنیا بھر میں انسانی امدادی سرگرمیوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔
اسی ماہ اسرائیلی حکام نے مشرقی یروشلم میں UNRWA کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بولا، اقوامِ متحدہ کا پرچم اتار کر اسرائیلی پرچم لہرا دیا، جبکہ اس سے قبل UNRWA کے اسکول بند کروا کر سینکڑوں فلسطینی بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیا گیا تھا۔
انسانی بحران اور جبری بے دخلی کے خدشات
UNRWA کے مشرقی یروشلم میں قائم طبی مراکز تقریباً 70 ہزار افراد کو صحت کی سہولیات فراہم کرتے ہیں، جن میں اکثریت معاشی طور پر کمزور فلسطینیوں کی ہے۔ بجلی، پانی اور بینکنگ کی سہولیات بند ہونے سے ویکسینیشن پروگرامز اور دائمی بیماریوں کا علاج مکمل طور پر رکنے کا خدشہ ہے۔
یہ قانون ایسے وقت میں آیا ہے جب 2023 سے اب تک غزہ میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ اسرائیل پر بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور امداد روکنے کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔
فاؤلر کے مطابق مارچ سے UNRWA کو غزہ اور مغربی کنارے میں امدادی سامان داخل کرنے سے روکا جا رہا ہے، اور نیا قانون صورتحال کو مزید سنگین بنا دے گا۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ UNRWA کو کمزور یا ختم کرنے کا مقصد فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی یا ان علاقوں سے انخلاء پر مجبور کرنا ہو سکتا ہے جنہیں مستقبل میں ضم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اردن کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ UNRWA کی انسانی خدمات کی صلاحیت کو نقصان پہنچاتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے اداروں کو حاصل قانونی تحفظ کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ 2024 کے بعد UNRWA کے خلاف منظور ہونے والے قوانین کی تازہ کڑی ہے، جن کے تحت مشرقی یروشلم میں ادارے کی سرگرمیاں بند، اسرائیلی حکام سے رابطہ منقطع اور عملے کو ویزے دینے سے انکار کیا جا چکا ہے۔
UNRWA کا مینڈیٹ، جس کی تجدید دسمبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کی، صحت، تعلیم اور انسانی امداد پر مشتمل ہے، جنہیں عالمی عدالتِ انصاف فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے لیے ناگزیر قرار دے چکی ہے۔
فلپ لازارینی نے واضح کیا کہ UNRWA کا کوئی متبادل نہیں۔ اسرائیل کو اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کے اندر رہ کر کام کرنا ہوگا۔ یہ قانون بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔












