بیت المقدس (پاک ترک نیوز ) اسرائیل نے مسلسل تیسرے سال غزہ کے مسلمانوں کو حج سے روک دیا۔ہزاروں فلسطینیوں کا برسوں پرانا خواب ادھورا رہ گیا۔
حنان الہمس نامی 65 سالہ فلسطینی خاتون بھی ان تین ہزار افراد میں شامل تھیں جنہیں 2024 میں فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ جانا تھا، مگر 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
حنان الہمس کا کہنا ہے جنگ میں میں نے اپنا بیٹا کھو دیا،میرا گھر تباہ ہو گیا ، اب مجھے اس سفر سے بھی محروم کر دیا گیا جس کا میں نے دہائیوں انتظار کیا تھا۔
جنگ سے پہلے بھی غزہ میں داخلے اور باہر جانے کے تمام فیصلے اسرائیل کے کنٹرول میں تھے۔ فروری میں رفح بارڈر کی جزوی بحالی کے باوجود صرف اُن مریضوں کو باہر جانے کی اجازت دی گئی جنہیں بیرون ملک علاج کی ضرورت تھی۔حج، تعلیم یا روزگار سمیت دیگر ضروریات کے لیے غزہ سے باہر جانا تقریباً ناممکن بنا دیا ۔
غزہ کی 23 لاکھ آبادی کی اکثریت اب بھی بے گھر ہے اور خیمہ بستیوں یا تباہ شدہ گھروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے جنگ میں کم از کم 72 ہزار 775 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ دنیا بھر سے اس صورتحال پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔












