استنبول(پاک ترک نیوز ) گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کے دعوے کے معاملے پر عالمی سطح پر سفارتی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ عراق، سعودی عرب، ترکیہ، فرانس اور مصر سمیت متعدد ممالک نے گولان کی پہاڑیوں کو مقبوضہ شامی علاقہ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی مؤقف کی مخالفت کردی ہے۔
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کرگیا جب کولمبیا نے گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جس پر کئی ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
عراق، سعودی عرب اور ترکیہ نے کولمبیا کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بیرونی ملک کو کسی علاقے پر قبضے کو قانونی حیثیت دینے کا اختیار حاصل نہیں۔
فرانس نے بھی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق گولان کی پہاڑیوں کی قانونی حیثیت سے متعلق فرانس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ترکیہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ جنوبی شام، بالخصوص گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضہ ختم کرانے اور شام کی خودمختاری و استحکام کے خلاف کارروائیوں کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
مختلف ممالک کا مؤقف ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا، اس لیے عالمی قوانین کے تحت اس علاقے کی حیثیت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔
دوسری جانب اسرائیل گولان کی پہاڑیوں پر اپنے کنٹرول کو قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ تزویراتی اہمیت کے حامل اس علاقے پر اسرائیل کا کنٹرول مستقل رہنا چاہیے۔
امریکا نے 2019 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کیا تھا، جبکہ کولمبیا کا حالیہ فیصلہ بھی اسی مؤقف کی حمایت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
گولان کی پہاڑیوں کے تنازع کی بنیاد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 پر بھی ہے، جو 1981 میں منظور ہوئی تھی۔ قرارداد میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی جانب سے اپنے قوانین نافذ کرنے کے اقدام کو ’’کالعدم اور بے اثر‘‘ قرار دیا گیا تھا۔
سعودی عرب سمیت کئی ممالک کا کہنا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کی صریح خلاف ورزی ہے۔












