تہران : (پاک ترک نیوز)ایرانی رپورٹس کے مطابق ایران نے خلیجِ فارس میں امریکی بحری بیڑے کی آمد کے بعد اپنے ردِعمل کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکہ کو اندازہ نہیں کہ اس وقت ایران کے پاس ایسی کون سی صلاحیتیں موجود ہیں جو امریکی بحری بیڑے کی برتری کو چیلنج کر سکتی ہیں۔
کہا یہ جارہا ہے کہ امریکی بحری جہاز ابراہام لنکن، جسے دنیا کے سب سے بڑے اور جدید ہتھیاروں سے لیس بحری جہازوں میں شمار کیا جاتا ہے، وہ بھی اس صورتحال میں خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔
ابراہام لنکن پر 60 سے 70 کے قریب ایف 35 طیارے، نگرانی کے لیے واچ پلینز، ڈرونز، میزائل اور انٹرسیپٹرز موجود ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سامنے ایران ہے، جو نہ تو کوئی کمزور ملک ہے اور نہ ہی غیر آباد علاقہ۔ایران جس میزائل کو اس مقصد کے لیے منظرِ عام پر لایا ہے، اس کا نام “یا علی” ہے۔
یہ ایک شارٹ رینج ایئر لانچ کروز میزائل ہے جسے بحری اہداف کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جاری کیے گئے نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میزائل کے ذریعے بحری بیڑے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے کروز میزائلوں میں سومار، حویز اور یا علی شامل ہیں، جبکہ اینٹی شپ میزائلوں میں نور، قادر اور خلیجِ فارس شامل ہیں۔یا علی میزائل کو ایرانی ایف 4 طیارے کے ذریعے لانچ کیا جاتا ہے۔
یہ تقریباً 0.8 ماخ کی رفتار سے پرواز کرتے ہوئے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔اس میزائل کی رینج تقریباً 700 کلومیٹر ہے اور لانچ ہونے کے بعد یہ ریڈار پر کم دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ سمندر کی سطح کے قریب کم بلندی پر پرواز کرتا ہے۔
یہ میزائل 200 سے 250 کلوگرام تک بارودی مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایک طرف خلیجِ فارس کے نام سے منسوب میزائل ہے اور دوسری طرف یا علی نامی میزائل، اور پھر “قہر 313”۔ کہا جارہا ہے کہ ایران میں رجیم چینج کا امریکہ کا خواب اب محض ایک خواب ہی رہے گا۔ یا علی میزائل دشمنوں کو نست و نابود کرنے کیلئے تیار ہے ۔












