دوحہ ( پاک ترک نیوز) قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی اہم پیشرفت نہ ہو سکی۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگز یوس کے مطابق مذاکرات سے واقف تین ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قطری ثالث نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کے ساتھ کئی گھنٹوں تک مذاکرات کیے۔ اس دوران قطر کی جانب سے پیش کی گئی دو صفحات پر مشتمل مجوزہ مفاہمتی دستاویز پر بھی غور کیا گیا، جس میں ایران پر عائد پابندیوں اور اس کے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس رعایتوں کے مطالبات شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا مستقبل کیا ہوگا؟ وزیراعظم ہاؤس میں آج اہم اجلاس
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ایگزیوس کے مطابق وائٹ ہاؤس مذاکرات میں پیشرفت کے حوالے سے پرامید تھا، تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسے کسی فوری سمجھوتے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔












