اسلام آباد(پاک ترک نیوز) خیبر پختونخوا کی تیزی سے بدلتی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی سطح پر آج اہم اجلاس متوقع ہے، جس میں صوبائی حکومت کی کارکردگی اور مستقبل سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف آئینی اور قانونی راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئندہ دنوں میں اہم فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر وفاقی وزرا کے بیانات بھی سامنے آچکے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ اگر ایسے حالات پیدا ہوں جن میں آئین گورنر راج یا ہنگامی اقدام کا تقاضا کرے تو ایسا کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے گزشتہ روز کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ہنگامی حالت کی بات کرنا قبل از وقت ہے اور بطور وفاقی وزیر وہ صرف تصدیق شدہ بات پر تبصرہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: تلخ کلامی کا انوکھا بدلہ، رکشا ڈرائیور نے خاتون کا نمبر رشتہ ایپ پر ڈال دیا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی دباؤ کے باوجود چار اکتوبر کے احتجاج سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے احتجاج واپس لینے کے لیے دباؤ اور گورنر راج کے امکان پر مشاورت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔












