تہران ( پاک ترک نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک نئی ویڈیو جاری کرکے دعویٰ کیا ہے، جس میں امریکی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کی جھلکیاں دکھائی گئی ہیں۔ آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائی حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
ایرانی دعوے کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں واقع متعدد اڈوں اور ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایرانی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ نے جوابی آپریشن شروع کیا۔ آپریشن کے پہلے مرحلے میں اردن میں واقع پرنس حسن ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کارروائی میں قدر، عماد، خیبر شکن، فتح 110 اور ذوالفقار سمیت مختلف طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، جنہیں ایرانی حکام انتہائی درست نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے ماضی میں جنوبی ایران پر کیے گئے اپنے حملوں کو آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں پر مبینہ حملوں کا ردعمل قرار دیا تھا، تاہم ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ایران کا مزید دعویٰ ہے کہ امریکی کارروائیاں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی تھیں، جس کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اب دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا دونوں ممالک مزید فوجی اقدامات کی طرف بڑھتے ہیں یا سفارتی کوششیں اس بحران کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب رہیں گی۔ آنے والے دن مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔












