واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی خفیہ تحقیقاتی ایجنسی کی خفیہ تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایران ٹرمپ کی آبنائے ہرمز ناکہ بندی کو مہینوں تک برداشت کر سکتا ہے۔ مسلسل فضائی حملوں اور شدید بمباری کے باوجود ایران اپنی عسکری صلاحیت کا بڑا حصہ بچانے میں کامیاب رہا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹیلیجنس جائزے میں بتایا گیا کہ کئی ہفتوں سے جاری امریکی اور اسرائیلی شدید بمباری کے باوجود تہران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود موبائل میزائل لانچرز کا تقریباً 75 فیصد اور میزائل ذخائر کا لگ بھگ 70 فیصد اب بھی محفوظ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج نے زیرِ زمین قائم متعدد میزائل تنصیبات کو دوبارہ فعال کر دیا ہے جبکہ حملوں میں متاثر ہونے والے میزائلوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ نئے ہتھیاروں کی تیاری بھی جاری ہے۔
انٹیلیجنس اندازوں کے مطابق ایران امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی دباؤ کو فوری طور پر محسوس نہیں کرے گا بلکہ کم از کم تین سے چار ماہ تک موجودہ صورتحال برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس رپورٹ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ جلد ختم ہونے کے دعوؤں پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔صدر ٹرمپ نے بدھ کو اوول آفس میں کہا تھا کہ ایران کے زیادہ تر میزائل تباہ ہو چکے ہیں، شاید صرف 18 یا 19 فیصد باقی ہیں۔ تاہم سی آئی اے کی رپورٹ اس دعوے سے مختلف ہے۔
امریکی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت سی آئی اے کے ابتدائی اندازے سے بھی زیادہ ہے۔
ایک اہلکار نے کہا کہ ایرانی قیادت زیادہ سخت اور پرعزم ہو گئی ہے۔












