لاہور(پاک ترک نیوز )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے لاہور دورے کے دوران کشیدگی پیدا ہوگئی، پولیس نے انہیں کچھ دیر کے لیے حراست میں لے کر پولیس موبائل میں بٹھا دیا۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کے پولیس موبائل میں بیٹھتے ہی گاڑی تیزی سے وہاں سے روانہ ہوگئی، تاہم کچھ دیر حراست میں رکھنے کے بعد پولیس نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو لکشمی چوک کے قریب اتار دیا۔
اس دوران پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنوں کی مبینہ گرفتاریوں پر بھی کارکنوں اور پولیس کے درمیان صورتحال کشیدہ رہی۔ وزیراعلیٰ کے پی کے پریزنر وین کے آگے کھڑے ہوگئے اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ میں کسی کو تنگ نہیں کر رہا، مجھے تنگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو رہا کیا جائے، اس کے بعد ہی آگے بڑھوں گا۔
وزیراعلیٰ کچھ دیر فٹ پاتھ پر بھی بیٹھے رہے، بعد ازاں واپس اپنی گاڑی پر سوار ہوگئے۔
دوسری جانب صدر تحریک انصاف لاہور میاں اکرم عثمان اور رہنما شبیر گجر کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے لاہور کے دو موریا پل کے مقام پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب پولیس سے کہتا ہوں، جنہوں نے میلاد کی تیاری کرنے والے اشتیاق احمد کو شہید کیا، مجھے ان سے سکیورٹی نہیں چاہیے۔ پنجاب پولیس تھانوں میں واپس جائے، پنجاب کے لوگ تم سے اور تمہاری وردی سے نفرت کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عاشق رسول کو تیل کی گرم کڑاہی میں پھینکا گیا، پنجاب پولیس کو شرم آنی چاہیے، تم نے عاشق رسول کو شہید کیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کہتی ہیں مجھے بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، لیکن میں آج اعلان کرتا ہوں کہ مجھے پنجاب کے بھائی بہنوں سے کوئی خطرہ نہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پنجاب کے جعلی وزیراعلیٰ کو عوام نے مسترد کیا اور وہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام میرے ہیں، پنجاب میرا ہے، میں پنجابیوں کا ہوں اور مجھے کوئی خطرہ نہیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور ہمارا تعلق پاکستان سے ہے۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب پولیس سے مطالبہ کیا کہ میرے لیے کوئی راستے بند نہ کیے جائیں اور میرے لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عوامی وزیراعلیٰ ہیں اور عوام میں رہنا پسند کرتے ہیں۔
ادھر سہیل آفریدی کی اچھرہ مارکیٹ آمد کے امکان کے پیش نظر انتظامیہ نے مارکیٹ بند کروا دی، جبکہ ان کے راستے میں آنے والی دیگر مارکیٹیں بھی قافلے کی آمد پر بند کروائی جاتی رہیں۔












