تہران ( پاک ترک نیوز) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ چھٹے روز بھی شدت اختیار کر گئی ۔ امریکی فضائی حملوں میں ایرانی فوجی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز، ہوائی اڈوں، پلوں اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے بھی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔
امریکا نے ایران پر مسلسل چھٹے روز بھی فضائی حملے جاری رکھے، جن میں ایرانی فوجی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملے ایرانشہر ایئرپورٹ، بندر خمیر، اہواز اور بوشہر سمیت مختلف علاقوں میں کیے گئے، جہاں تین اہم پل بھی تباہ کر دیے گئے۔
بندر عباس میں رہائشی عمارت، کمیونیکیشن ٹاور اور ریلوے اسٹیشن بھی حملوں کی زد میں آئے، جبکہ مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق صوبہ ہرمزگان میں امریکی حملوں کے نتیجے میں سات افراد جاں بحق جبکہ نو زخمی ہوئے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی حکام کے مطابق کویت کے علی السالم ایئربیس پر ریڈار نظام، فضائی دفاعی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے گئے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اردن اور بحرین میں بھی امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم کویتی فوج نے ڈرون حملوں کی نئی لہر ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔اسی دوران دبئی کے وسطی علاقے اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ قطری وزارت دفاع نے متعدد میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا چین پر امریکی انتخابی عمل میں مسلسل مداخلت کرنے کا الزام
ادھر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران میں بڑی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور بہت جلد ان کوششوں کے نتائج دنیا کے سامنے ہوں گے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی فوج کو دوبارہ مضبوط بنا کر دنیا کی سب سے طاقتور فوج میں تبدیل کیا۔
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے والی صورتحال میں واپس نہیں آئے گی۔ امریکا آبنائے ہرمز پر ایران کے اختیارِ حاکمیت سے خوفزدہ ہے اور خطے میں سکیورٹی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ترجمان نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکا کو ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں نے نہ صرف خلیج فارس بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی برادری مسلسل تحمل اور سفارتی حل پر زور دے رہی ہے، تاہم زمینی حقائق یہی بتا رہے ہیں کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس تنازع کے اثرات خطے سے نکل کر عالمی معیشت، توانائی کی رسد اور بین الاقوامی سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔












