
از: سہیل شہریار
پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بحری طاقت کے متضاد بھارت کو اپنے برہموس سپر سانک میزائلوں کی پیداوار برقرار رکھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں ان ہتھیاروں کی پیدوار 50فیصد تک کم ہو چکی ہے۔
بین الاقومی دفاعی جریدوں اور ماہرین کے تجیوں کے مطابق موجودہ صورتحال سے بحر ہند میں طاقت کا توازن بھارت کی مخالفت میں چلا گیا ہے ۔ برہموس میزائل ہندوستانی بحریہ کے تباہ کن جہازوں کے دفاع کی پہلی لائن قرار دئیے جاتے ہیں جو آج کے خطرناک پانیوں میں گشت کرتے ہیں۔جبکہ علاقائی سمندوں چین اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور اب پاکستان چین-ایران تعاون کی تشکیل نے نئی دہلی کے لیے بڑی تشویشپیدا کر دی ہے۔
خود بھارتی دفاعی تجزیہ کاوں کا کہنا ہے کہ اگر میزائلوں کی پیداوار کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو ہندوستانی بحری جہازوں کو آدھے خالی میگزینوں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔جن کی پیداوار میں 50فیصد تک کمی بیرونی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ فیصلہ سازوں کی غلطی ہے جنہوں نے میزائل بنانے والے 56اہم اہلکاروں کو بلا سوچے سمجھے لکھنؤ اور پیلانی میں بنائی گئی نئی میزائل فیکٹریوں میں منتقل کر دیاجہاں تا حال پیداوار کا آغاز نہیں ہو سکا۔اس کے نتیجے میں نئے پلانٹس کے فعال ہونے سے پہلے ہی حیدرآباد کی بنیادی سہولت کو ختم کرنے سے میزائلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس طرح کے تکنیکی منصوبوں میں کسی ماسٹر ٹیکنیشن یا انجینئر کا تبادلہ کرنا کسی سادہ پیشہ ور کے تبادلے یا ملازمت سے برطرف کرنے جیسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ میزائل سازی میں جیٹ انجنوں اور دیگر جدید نظاموں کو درست طریقے سے اسمبل کرنے کے لیے برسوں کے علم اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔نتیجتاً اب یہ تباہ کن تبادلےپیداواری تاخیر کے ساتھ ساتھ مایوسی کے شکار تکنیکی عملے میں بڑے پیمانے پر استعفوں کی صورت میںظاہر ہورہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان بھی جس تیزی سے اپنی بحری قوت کو بڑھانے کے منصوبوں پر کار بند ہیں ۔اسے دیکھتے ہوئے اگر براہموس سپر سانک میزائلوں کی تیاری رک جاتی ہے ۔ اور ا گر بھارت اپنی پیداواری لائنوں کو برقرار نہیں رکھ سکتا تو "میڈ اِن انڈیا” سیکورٹی حل پر اسکے خریداوں کا اعتماد ختم ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر 2026 کے آخر تک افرادی قوت کی شکایات اور تکنیکی رکاوٹوں کو دور نہ کیا گیا تو یہ خللڈھانچہ جاتی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ جبکہ بھارت کو پہلے ہی خصوصاً برازیل سے معاہدے کے خاتمے کے بعد اپنے آکاش میزائل سسٹم کی فروخت میں شدید دشورایوں کا سامنا ہے ۔












