لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں کم لاگت مگر مؤثر کروز میزائلوں کی تیاری کی دوڑ تیزی سے جاری ہے، اب پاکستان بھی اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے والے ممالک میں شامل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے بعد پاکستان بھی ایسے جدید ہتھیاروں کی تیاری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو کم لاگت میں زیادہ فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
دفاعی تجریاتی ادارے QUWA کے مطابق حالیہ برسوں میں روایتی مہنگے کروز میزائلوں کے متبادل کے طور پر کم لاگت کروز میزائل کا تصور تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ یہ میزائل کم لاگت کے باوجود روایتی کروز میزائلوں جیسی رینج اور نسبتاً بھاری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا جدید تیمور کروز میزائل دشمنوں کے لیے خطرے کی گھنٹی
ماہرین کے مطابق جیٹ انجن سے چلنے والے ون وے اٹیک ڈرون بھی تکنیکی اعتبار سے کروز میزائلوں کی ایک قسم ہیں، لیکن ان کا بنیادی مقصد کم قیمت میں بڑی تعداد میں استعمال ہے۔
اس کے برعکس لو کاسٹ کروز میزائل نسبتاً زیادہ وزن کے ساتھ 200 سے 400 کلوگرام تک وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں، جبکہ ان کا ڈیزائن روایتی کروز میزائلوں کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں نظاموں میں اصل فرق صرف رینج نہیں بلکہ وار ہیڈ کے وزن اور مجموعی وزن کا ہوتا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے سرفروش نظام کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کی مبینہ رینج 1000 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ اس نظام کا مجموعی وزن تقریباً 175 کلوگرام جبکہ وار ہیڈ کا وزن 50 کلوگرام بتایا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سرفروش زیادہ تر کم وزن والے جیٹ پاورڈ حملہ آور نظاموں کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے، جبکہ مستقبل کے کم لاگت کروز میزائلوں کا ہدف اس سے کہیں زیادہ وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔
یورپی دفاعی کمپنی MBDA نے اس شعبے میں ون وے ایفکٹر کا تصور متعارف کرایا ہے ۔
۔ کمپنی کے گراس بو سسٹم کو "ہیوی OWE” قرار دیا گیا ہے، جو زیادہ وزن والا وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ Deluge نسبتاً ہلکا نظام ہے، جو ایرانی شاہد اور گیران طرز کے جیٹ پاورڈ ڈرونز سے مشابہت رکھتا ہے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق اگر پاکستان کم لاگت مگر زیادہ طاقتور کروز میزائل تیار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس سے ملک کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ایسے ہتھیار نہ صرف روایتی کروز میزائلوں کے مقابلے میں کم قیمت ہوں گے بلکہ بڑی تعداد میں تیار کیے جا سکیں گے، جس سے مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں اہم برتری حاصل ہو سکتی ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے یہ تجزیہ دفاعی رجحانات اور دستیاب معلومات پر مبنی ہے، جبکہ کم لاگت کروز میزائلوں کے کسی نئے سرکاری پروگرام یا منصوبے کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔












