نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) بھارت نے نجی شعبے کے ذریعے جوہری بجلی کی پیداوار کی منظوری کے لیے سخت نگرانی پر مبنی نظام تجویز کردیا، جس کے تحت ثابت شدہ کارکردگی رکھنے والی غیر ملکی جوہری ٹیکنالوجی کو بھی بھارت میں استعمال کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
مسودہ قوانین اور ضوابط کے ذریعے پہلی مرتبہ واضح کیا گیا ہے کہ نئی دہلی کس طرح کئی دہائیوں سے ریاستی کنٹرول میں موجود جوہری شعبے کو نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کھولنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، تاہم لائسنسنگ اور آپریشنز پر حکومتی کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔
مجوزہ قوانین کے تحت کمپنیاں باقاعدہ لائسنس حاصل کرنے سے پہلے اصولی منظوری لے کر جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے رابطہ، ابتدائی ترقیاتی کام اور زمین کے حصول جیسے اقدامات کرسکیں گی۔
باقاعدہ لائسنس ملنے کے بعد ہر منصوبے کو ڈیزائن، مقام کے انتخاب، تعمیر، آزمائشی مرحلے اور آپریشن سمیت مختلف مراحل پر ریگولیٹری نگرانی سے گزرنا ہوگا۔ ریگولیٹرز کو اہم مراحل پر کام روکنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔
بھارت کا جوہری توانائی کا شعبہ طویل عرصے سے بڑی حد تک ریاستی کنٹرول میں رہا ہے۔ 1974 میں بھارت کے پہلے جوہری تجربے کے بعد عالمی سطح پر عائد پابندیوں کے باعث غیر ملکی ایندھن اور جدید جوہری ٹیکنالوجی تک بھارت کی رسائی محدود ہوگئی تھی۔
گزشتہ سال بھارت نے جوہری توانائی کے قانون میں ترمیم کرکے نجی کمپنیوں کو جوہری بجلی کے منصوبے تعمیر اور چلانے کی اجازت دینے کی راہ ہموار کی، تاہم لائسنسنگ اور حساس جوہری مواد پر حکومتی کنٹرول برقرار رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس کا بھارت کو رافیل کے حساس سورس کوڈز کی فراہمی سےپھر انکار
دنیا کے بڑے گرین ہاؤس گیس اخراج کرنے والے ممالک میں شامل بھارت آئندہ دو دہائیوں کے دوران اپنی جوہری بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 12 گنا اضافہ کرکے 100 گیگاواٹ تک پہنچانا چاہتا ہے۔
اس بڑے ہدف کے حصول کے لیے نجی سرمایہ کاری اور غیر ملکی جوہری ٹیکنالوجی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق بھارت نے اڈانی گرین، ٹاٹا پاور اور ریلائنس انڈسٹریز سمیت بڑے نجی کاروباری گروپس کو جوہری توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔
جوہری توانائی کے قانون میں کی گئی تبدیلیوں میں جوہری حادثات کی صورت میں آلات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی ذمہ داری کی حد مقرر کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ یہ معاملہ طویل عرصے سے غیر ملکی جوہری کمپنیوں کے لیے بھارت میں سرمایہ کاری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا رہا ہے۔
نئی پالیسی سے جنرل الیکٹرک، ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک اور فرانس کی ای ڈی ایف جیسی غیر ملکی کمپنیوں کی بھارت میں دلچسپی بحال ہونے کی توقع ہے۔
مجوزہ ضوابط کے تحت ایسے جوہری ری ایکٹر ڈیزائنز کو بھی منظوری دی جاسکے گی جن کا بیرون ملک عملی استعمال اور کارکردگی کا ثابت شدہ ریکارڈ موجود ہو۔ منصوبہ تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے ملک میں ری ایکٹر کے لائسنسنگ اور آپریشن کا تجربہ بھی پیش کرنا ہوگا۔
مجوزہ نظام کے تحت جوہری بجلی کے منصوبوں کے ڈویلپرز کو جوہری حادثات سے متعلق ذمہ داری، پلانٹ کی ریٹائرمنٹ اور جوہری فضلے کے انتظام کے لیے مالی ضمانت برقرار رکھنا ہوگی۔
کمپنیوں کو تابکار فضلے کی محفوظ منتقلی، ذخیرہ اور انتظام سے متعلق تفصیلی منصوبے بھی جمع کرانا ہوں گے۔












