اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ جاری رہے گا اور رکے گا نہیں، لانگ مارچ کی کمان وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے پاس ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لانگ مارچ کے سپہ سالار سہیل آفریدی ہیں، ہم نے کسی پر حملہ نہیں کرنا، ہمارا مقصد پرامن احتجاج ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات سے حالات مزید خراب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو تمام معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات سیاسی استحکام لانے کے لیے کیے گئے تھے، تاہم مذاکرات میں دو اہم معاملات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر مذاکرات ناکام ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں امن جرگہ ہوا جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی اور مقامی مسائل کے حل کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔انہوں نے کہا کہ دور بیٹھ کر فیصلے نہیں کیے جاسکتے، وہاں کے حالات بہتر بنانے کے لیے مقامی لوگوں اور قبائلی عمائدین کی مشاورت ضروری ہے۔ مذاکرات میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ قبائلی علاقوں سے متعلق فیصلے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے کیے جائیں گے، تاہم تمام فریقین کی مشاورت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کی دوسری بڑی وجہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا معاملہ تھا۔ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو طبی معائنہ کرنے والے پینل کا حصہ بنانے پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سب سے اہم معاملہ ہے، بانی کی فیملی اور ذاتی معالجین کا پہلا حق ہے کہ وہ ان سے ملاقات کریں۔ وکلا کی ملاقات بھی انتہائی ضروری ہے، جبکہ وہ پارٹی رہنما جو گزشتہ 30 برس سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، ان کا بھی ملاقات کا حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کو ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ منصوبے پر اقوام متحدہ کا اسکرول آف آنر ایوارڈ مل گیا
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی قوم کو آگے کا راستہ دکھائیں گے کہ آئندہ کیا کرنا ہے، اس لیے ہماری اولین ترجیح بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ کے پی اور بلوچستان میں حالات بہتر نہیں، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بانی پی ٹی آئی سے ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات انتہائی اہم معاملات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سہیل آفریدی کے مؤقف کے ساتھ ہیں اور خیبر پختونخوا میں جو بھی فیصلہ ہو، وہ سب کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔ پارٹی کے تمام رہنما بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے فکرمند ہیں۔سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات قومی معاملہ تھا، تاہم ذاتی معالج تک رسائی نہ دینا ان کے ذہن میں فتور کے مترادف تھا۔ ہم سب مل کر ملک کو سیاسی استحکام کی جانب لے کر جاسکتے ہیں۔












