تہران ( پاک ترک نیوز) امریکی پابندیوں، بلند افراطِ زر، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایران کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے نتیجے میں ایرانی ریال کی قدر مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر نمایاں اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے۔
تازہ ترین اوپن مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق ایک امریکی ڈالر تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار سے 17 لاکھ 56 ہزار 500 ایرانی ریال کے درمیان خریدا اور فروخت کیا جا رہا ہے، جو ایرانی کرنسی پر موجود شدید دباؤ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی پابندیاں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹیں، عالمی مالیاتی نظام تک محدود رسائی، مہنگائی کی بلند شرح اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ایرانی معیشت کے لیے بدستور بڑے چیلنجز ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز امریکی دھمکیوں سے نہیں کھلے گی ،باقر قالیباف
ادھر امریکا کی جانب سے ایران پر تیل سے متعلق پابندیوں کو مزید سخت کیے جانے اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے باعث کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
پاکستانی روپے کے مقابلے میں بھی ایرانی ریال انتہائی کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ موجودہ مارکیٹ اندازوں کے مطابق ایک پاکستانی روپے کے بدلے تقریباً 4 ہزار 934 سے 6 ہزار 330 ایرانی ریال حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال تقریباً ساڑھے 7 ہزار سے 8 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان خریدے اور فروخت کیے جا رہے ہیں۔
کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض سرمایہ کار مستقبل میں ایرانی معیشت کی بہتری کی امید پر ریال خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں، تاہم موجودہ معاشی اور سیاسی حالات کے پیش نظر اس کرنسی میں سرمایہ کاری کو اب بھی زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا نئی اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں تو آنے والے دنوں میں ایرانی ریال کی قدر میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔












