لاہور( پاک ترک نیوز) تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ آبادی رکھنے والا آسٹریلیا گھروں کی سطح پر سولر توانائی کے استعمال میں دنیا کا سرفہرست ملک بن گیا ہے۔ ملک میں ہر تین میں سے ایک سے زائد علیحدہ رہائشی گھروں کی چھت پر سولر پینل نصب ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں یہ شرح تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق آسٹریلیا نے گزشتہ چند برسوں میں شمسی توانائی کو صرف متبادل ذریعہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنا دیا ہے۔ اب بیشتر گھر دن کے اوقات میں اپنی ضرورت کی بجلی خود پیدا کرتے ہیں، جس سے قومی بجلی کے گرڈ پر بوجھ میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ایک مقامی استاد کا کہنا ہے کہ پہلے گرمیوں کے بجلی کے بل پریشان کرتے تھے، لیکن اب دوپہر کے وقت ہمارا میٹر الٹا چلتا ہے اور ہم بلا جھجھک گھریلو برقی آلات استعمال کرتے ہیں۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق آسٹریلیا میں سولر انقلاب کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما رہے، جن میں سولر پینلز اور متعلقہ آلات کی قیمتوں میں مسلسل کمی۔تنصیب کے عمل کو تیز اور آسان بنانا۔حکومت کی جانب سے ابتدائی مالی مراعات اور فیڈ اِن ٹیرف جیسے پروگرام۔بجلی کی بڑھتی قیمتوں سے بچنے کے لیے شہریوں کا سولر توانائی کی جانب رجحان ہے
یہ بھی پڑھیں: سولر پلیٹس سستی، بیٹریاں بھی ہوں گی سستے داموں؟
گھروں میں بڑے پیمانے پر سولر پینلز لگنے کے بعد آسٹریلیا کے بجلی کے نظام میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ دن کے وقت گرڈ سے بجلی کی طلب میں نمایاں کمی آتی ہے، بعض اوقات بجلی کی تھوک قیمت منفی سطح تک چلی جاتی ہے، جبکہ جدید اسمارٹ انورٹرز اور ورچوئل پاور پلانٹس بجلی کی ترسیل اور طلب کو مؤثر انداز میں متوازن رکھتے ہیں۔
بیٹریوں نے نظام کو مزید مضبوط بنایا
گھریلو بیٹری اسٹوریج سسٹمز نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دن کے وقت ذخیرہ کی گئی شمسی توانائی شام کے اوقات میں استعمال کی جاتی ہے، جس سے بجلی کی طلب کے دباؤ میں کمی آتی ہے اور مہنگے گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس پر انحصار بھی کم ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہزاروں گھروں میں نصب چھوٹے سولر اور بیٹری سسٹمز مل کر ایک بڑے بجلی گھر کی طرح کام کر سکتے ہیں۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کا ماڈل دیگر ممالک کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔ اگر حکومتیں سولر پینلز کی تنصیب کو آسان بنائیں، شفاف مراعات فراہم کریں، جدید گرڈ ٹیکنالوجی متعارف کرائیں اور کرایہ داروں کے لیے مشترکہ سولر منصوبے شروع کریں تو شمسی توانائی کے فروغ میں نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔












