ریاض ( پاک ترک نیوز) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سمیت مختلف علاقوں میں ممکنہ خطرے کے باعث شہریوں کو ہنگامی انتباہ جاری کیا گیا، تاہم کچھ دیر بعد سعودی سول ڈیفنس نے خطرہ ٹلنے اور وارننگ واپس لینے کا اعلان کردیا۔سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق جدہ، طائف، ینبوع، العلا، خمیس مشیط، جازان اور ابھا میں قومی ابتدائی انتباہی نظام کے ذریعے شہریوں کو ممکنہ خطرے سے خبردار کیا گیا۔سعودی حکام نے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو ہدایت کی کہ وہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات کو ترجیح دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد پینٹاگون کے سرکاری ریکارڈ سے زیادہ
سعودی سول ڈیفنس نے وارننگ جاری کرتے وقت خطرے کی نوعیت یا ممکنہ مقام کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور نہ ہی ان انتباہات کے دوران کسی جانی نقصان یا املاک کو نقصان کی اطلاع دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق جدہ، طائف، ینبوع اور خمیس مشیط میں دو، دو مرتبہ انتباہی پیغامات جاری کیے گئے، جبکہ العلا، جازان اور ابھا میں بھی ممکنہ خطرے سے متعلق الرٹ جاری ہوا۔تقریباً آدھے گھنٹے کے دوران مختلف علاقوں میں انتباہات جاری کیے جانے کے بعد سعودی سول ڈیفنس نے یکے بعد دیگرے پیغامات جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے اور صورتحال معمول پر ہے۔ یہ تازہ انتباہات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب کو حالیہ دنوں میں ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا رہا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق گزشتہ دنوں طائف کے علاقے میں ایک روکے گئے ڈرون کے ملبے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوئے تھے۔
سعودی حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی اطلاع، ویڈیو یا پیغام کو دوسروں تک پہنچانے سے پہلے اس کی سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں۔












