لاہور( پاک ترک نیوز) پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں جائیداد کی خرید و فروخت، رہن، ہبہ (تحفہ) اور دیگر تمام انتقالات کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ نیا نظام یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور اس کے تحت بیشتر جائیداد کے لین دین میں روایتی فردِ بیع کی جگہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ استعمال کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت کے مطابق ملکیتی ریکارڈ (فردِ ملکیت) پہلے کی طرح جاری ہوتا رہے گا، تاہم جائیداد سے متعلق تمام قانونی معاملات کے لیے اب گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ اس اقدام کو پنجاب میں پیپر لیس لینڈ ریکارڈ سسٹم کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس نظام پر عملدرآمد کے لیے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے صوبے کی تمام تحصیلوں میں خصوصی سروے ٹیمیں تعینات کر دی ہیں۔
ہر تحصیل میں پانچ سروےرز مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ لاہور کی 10 تحصیلوں میں مجموعی طور پر 50 سروےرز خدمات انجام دیں گے۔
طریقہ کار کے مطابق سروےر پہلے جائیداد کی ملکیت، قبضے اور محلِ وقوع کی تصدیق کرے گا۔ اس کے بعد 15 روز کے لیے آن لائن عوامی نوٹس جاری کیا جائے گا تاکہ اگر کسی شخص کو اعتراض ہو تو وہ سامنے آ سکے۔اگر مقررہ مدت کے دوران کوئی اعتراض موصول نہ ہوا تو متعلقہ جائیداد کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جائے گا۔
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے مطابق گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ایک سرکاری تصدیقی دستاویز ہے، جو جائیداد کی ملکیت، قانونی حیثیت اور قبضے کی تصدیق کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں طلبا کو پھر قسطوں پر ای بائیکس ملیں گی
حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کا مقصد جائیداد کے کاروبار میں دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات اور زمین کے تنازعات کا خاتمہ کرنا ہے، تاکہ کسی بھی خرید و فروخت یا انتقال سے پہلے زمین کے ریکارڈ اور ملکیت کی مکمل جانچ یقینی بنائی جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اصلاحات کے ذریعے پنجاب میں زمینوں کے ریکارڈ کو مزید شفاف، محفوظ اور جدید بنایا جائے گا، جس سے عوام کو تیز رفتار اور قابلِ اعتماد خدمات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔












