برلن: (پاک ترک نیوز)جرمنی کی جانب سے امریکی فوجی ڈرونز کی خریداری محض ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں بلکہ یہ یورپ کی دفاعی ترجیحات میں گہری تبدیلی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
برلن کا حالیہ فیصلہ یورپی دفاعی پالیسی کو نئی سمت دے سکتا ہے۔یورپ میں دفاعی حکمتِ عملی اس وقت ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے۔ 2022 کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی حالات نے یورپی حکومتوں کو دفاعی خریداری، ٹائم لائنز اور انحصار کے معاملات پر ازسرِنو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ مشترکہ یورپی دفاعی منصوبوں کے دعوے اب بھی برقرار ہیں، لیکن عملی سطح پر آپریشنل دباؤ کے باعث ترجیحات بدلتی دکھائی دے رہی ہیں۔
جرمن فوج کے مطابق یہ ڈرونز 2028 سے میرین فلیگرگشواڈر 3 “گراف زیپلن” کے زیرِ استعمال ہوں گے، جو نورڈہولز میں تعینات ہے۔ انفراسٹرکچر کی تیاری اور عملے کی تربیت کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
یہ ڈرونز جرمن بحریہ کے P-8A پوسائیڈن طیاروں کے ساتھ مل کر بالٹک سمندر اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں نگرانی کے دائرہ کار کو وسعت دیں گے، جہاں جرمنی نیٹو کے بحری دفاع اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ میں کردار ادا کرتا ہے۔MQ-9B ایک طویل دورانیے تک پرواز کرنے والا بغیر پائلٹ طیارہ ہے، جسے جنرل ایٹومکس نے تیار کیا ہے۔
بحری نگرانی کے لیے ترتیب دیے گئے اس نظام میں 2 ہزار کلوگرام تک پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت ہے، جس میں الیکٹرو آپٹیکل سینسرز، بحری ریڈار اور سونوبوائز چھوڑنے کی صلاحیت رکھنے والے پوڈز شامل ہیں۔
یہ خصوصیات اسے سطحِ سمندر اور زیرِ آب اہداف کی نگرانی کے قابل بناتی ہیں۔یہ ڈرونز حالات کے مطابق 30 گھنٹے تک مسلسل پرواز کر سکتے ہیں، جو انہیں وسیع علاقے میں انٹیلی جنس، نگرانی اور زیرِ آب آبدوزوں کی تلاش کے لیے موزوں بناتا ہے۔ MQ-9B سے حاصل ہونے والا ڈیٹا زمینی کنٹرول اسٹیشنز کے ذریعے دیگر جرمن بحری یونٹس اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، جس سے مشترکہ آپریشنز میں ہم آہنگی بڑھے گی۔ یہ ڈرونز بحری کمانڈ نیٹ ورکس کا حصہ بن کر زیرِ آب خطرات کی مسلسل نگرانی فراہم کریں گے۔












