لاہور: (پاک ترک نیوز) آج ہم بات کریں گے ایک ایسے ہتھیار کی جو امریکہ اور اسرائیل کی راتوں کی نیندیں اُڑانے کے لیے کافی ہے!
جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں ایران کےذوالفقار میزائل کی، جو مختصر فاصلے کا بیلسٹک میزائل ہے، لیکن طاقت اور رفتار میں خطے کے کسی بھی دشمن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
یہ میزائل 700 کلومیٹر کی رینج رکھتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ اسرائیل، یہاں تک کہ امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ صرف چند منٹوں میں ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت، اور mach5 کی رفتار کے ساتھ، یہ میزائل خطے میں سب کے لیے ہلچل پیدا کر دیتا ہے۔
ذوالفقار کا ڈیزائن سادہ مگر مہلک ہے: ایک مرحلے کا سولڈ پروپیلنٹ، 10.3 میٹر لمبا اور 0.68 میٹر قطر، ہلکا کمپوزٹ فریم اور 4,620 کلوگرام لانچ وزن کے ساتھ، فوری نقل و حرکت کے لیے تیار۔
450 سے 600 کلوگرام تک کا وار ہیڈ، ہیوی ایکسپلوسیو، کلسٹر یا سب میونیشن لے جا سکتا ہے، اور INS/GPS گائیڈنس کے ذریعے 10 سے 100 میٹر کی درستگی حاصل کرتا ہے، یعنی ہدف کو سیدھا نشانہ بنانے کی صلاحیت۔
یہ میزائل پہلے ہی میدانِ جنگ میں استعمال ہو چکا ہے: 2017 میں داعش کے خلاف،اور 2020 میں امریکی فوجی اڈےالعدید پر نشانہ بنانے کے لیے۔
روس کو بھی 2024 ءمیںذوالفقار کی منتقلی ہوئی تاکہ یوکرین میں دفاعی طاقت مضبوط ہوتو سوال یہ ہے، اگر کوئی تنازعہ شروع ہوتا ہے، تو کیا امریکہ اور اسرائیل تیار ہیں اس مہلک میزائل کے ممکنہ تباہ کن حملے کا سامنا کرنے کے لیے؟ یہ صرف ایک انتباہ نہیں، بلکہ خطے کی سیاست اور دفاعی توازن کا کھیل بدلنے والا ہتھیار ہے۔












