بیجنگ :(پاک ترک نیوز)چین کی فوج نے انکشاف کیا ہے کہ وہ عوامی سائبر اسپیس سے اعلیٰ قدر کی فوجی انٹیلی جنس حاصل کرنے کے لیے جدید کوانٹم ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے۔
سرکاری اخبار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیلی کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی (PLA) اس وقت 10 سے زائد تجرباتی کوانٹم سائبر وارفیئر ٹولز تیار کر رہی ہے، جن میں سے کئی کو عملی طور پر فرنٹ لائن مشنز میں آزمایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس حساس منصوبے کی قیادت نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی کی ایک سپر کمپیوٹنگ لیبارٹری کر رہی ہے، جہاں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی کو یکجا کر کے ایسے جدید نظام تیار کیے جا رہے ہیں جو موجودہ طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پیچیدہ فوجی ڈیٹا کو پراسیس کر سکیں۔
چینی فوجی کمانڈروں کا ماننا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی مدد سے سیکنڈوں میں میدانِ جنگ سے متعلق بھاری مقدار میں معلومات کا تجزیہ ممکن ہو جائے گا۔
اس تیز رفتار پراسیسنگ سے کمانڈروں کو فوری فیصلے کرنے، وسائل کی مؤثر تقسیم اور ہائی پریشر آپریشنز میں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔اخبار سے بات کرتے ہوئے ایک نامعلوم PLA افسر نے کہا کہ ان نئے سائبر ہتھیاروں کی تیاری کے پیچھے بنیادی سوچ "رفتار اور مسلسل تبدیلی” ہے۔
ان کے مطابق،”اچھے ہتھیار بنانے کے لیے سب سے پہلے مستقبل کی جنگ کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔”یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین مستقبل کے تنازعات میں ڈیجیٹل غلبے، ڈیٹا کنٹرول اور تیز رفتار موافقت کو فیصلہ کن عوامل سمجھ رہا ہے۔
کوانٹم ڈیٹا پروسیسنگ اور کمانڈ اینڈ کنٹرولرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائبر اسپیس سے انٹیلی جنس جمع کرنے کے علاوہ کوانٹم کمپیوٹنگ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام کو بھی یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔
مختلف ذرائع سے آنے والے ڈیٹا کا فوری تجزیہ کر کے کوانٹم سسٹمز کمانڈروں کو حقیقی وقت میں بدلتی ہوئی جنگی صورتحال سے آگاہ رکھ سکتے ہیں، جس سے فیصلہ سازی اور کارروائی کے درمیان تاخیر کم ہو جائے گی۔
اسٹیلتھ طیاروں کا سراغ اور محفوظ نیویگیشنکوانٹم سینسنگ اور کوانٹم پوزیشننگ کو بھی اس منصوبے کے اہم پہلو قرار دیا گیا ہے۔ کوانٹم سینسنگ ٹیکنالوجی اسٹیلتھ طیاروں اور کم مشاہدہ پذیر پلیٹ فارمز کا سراغ لگانے میں مدد دے سکتی ہے، جو روایتی ریڈار سے بچ نکلتے ہیں۔ اس پیش رفت سے فضائی دفاعی نظام کو بڑی تقویت مل سکتی ہے۔
اسی طرح کوانٹم پوزیشننگ سسٹمز کو ایسے نیویگیشن ٹولز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو جیمنگ یا جعل سازی کے خلاف مزاحم ہوں گے۔ جدید جنگوں میں GPS سگنلز کو متاثر کرنا ایک عام حکمتِ عملی بن چکی ہے، تاہم کوانٹم اصولوں پر مبنی نظام سیٹلائٹ سگنلز کی عدم موجودگی میں بھی مؤثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔
یہ صلاحیتیں نہ صرف جنگی کارروائیوں بلکہ رسد، مواصلات اور بڑے علاقوں میں فوجی رابطہ کاری کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔محققین اور فرنٹ لائن فوجیوں کا قریبی تعاونرپورٹ کے مطابق، کوانٹم ریسرچ یونٹس کے محققین براہِ راست فرنٹ لائن دستوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ حقیقی آپریشنل ضروریات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔












