ریاض: (پاک ترک نیوز)غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا نے سعودی عرب پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ پاکستان اور ترکیہ کے لڑاکا طیاروں کے منصوبوں سے خود کو الگ رکھے۔
واشنگٹن سعودی عرب کی جانب سے دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے نئے شراکت دار تلاش کرنے کی کوششوں پر ناخوش دکھائی دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ دیگر ممالک خصوصاً ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدے امریکی اسلحہ کی برآمدات کو متاثر کریں گے۔ سعودی عرب کے حالیہ دورۂ واشنگٹن کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مملکت کو ایف-35 طیاروں کی فروخت اور ایک بڑے دفاعی معاہدے کی تصدیق کی، تاہم اس کے باوجود امریکی سفارت کار ریاض سے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ عسکری و تکنیکی روابط کی مکمل تفصیلات طلب کر رہے ہیں۔
اس خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن پہلے ہی سعودی عرب سے یہ یقین دہانی حاصل کر چکا ہے کہ وہ پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر طیارے خریدنے کا ارادہ ترک کر دے گا۔
اس سے قبل یہ امکان بھی زیر غور تھا کہ ان طیاروں کی فراہمی کے بدلے اسلام آباد کے قرضے معاف کیے جائیں، مگر امریکی دباؤ کے بعد یہ عمل روک دیا گیا۔
اس وقت امریکا کی سب سے بڑی تشویش سعودی عرب کی ترکیہ کے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے KAAN فائٹر جیٹ پروگرام میں ممکنہ شمولیت ہے۔
ریاض نے اب تک واشنگٹن کو اس منصوبے سے علیحدگی کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔امریکی محکمہ دفاع کا مؤقف ہے کہ ترک طیاروں کی خریداری کی ضرورت نہیں کیونکہ سعودی فضائیہ پہلے ہی F-15 اور یورو فائٹر ٹائفون جیسے جدید طیاروں سے لیس ہے۔
وائٹ ہاؤس کی بنیادی شکایت یہ ہے کہ جو سرمایہ ترک KAAN منصوبے میں لگایا جا سکتا ہے وہ دراصل امریکی اسلحہ کی خریداری کے بجٹ سے نکالا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ سعودی عرب کے لیے امریکا ہی واحد اور سب سے بڑا دفاعی سپلائر بنا رہے۔












