لاہور( پاک ترک نیوز) فرانس نے اپنے پرانے جنگی طیارے میراج 2000 ڈی کو جدید بنانے کے لیے ایسا نظام نصب کردیا ہے جسے رافیل طیاروں کی ’’آنکھ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔۔اب یہ طیارہ دور بیٹھ کر ہدف کی شناخت، نگرانی اور متحرک اہداف کا تعاقب کرنے کے ساتھ ساتھ براہِ راست تصاویر بھی زمین پر منتقل کرسکے گا۔۔لیکن کیا یہ جدید نظام میراج 2000 ڈی کو رافیل کا مقابل بنا سکتا ہے؟ دیکھیے یہ رپورٹ۔۔ایک طرف جدید ترین رافیل۔۔اور دوسری طرف تقریباً تین دہائیوں پرانا میراج 2000 ڈی۔۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل احمد وحیدی سے اہم ملاقات
لیکن فرانس نے پرانے جنگی طیارے کو ایک بار پھر میدانِ جنگ کے لیے تیار کردیا ہے۔۔میراج 2000 ڈی کے جدید ساختہ طیاروں میں ٹالیوس نامی جدید ہدف شناس نظام نصب کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔۔یہ وہی نظام ہے جو رافیل طیاروں میں استعمال ہوتا ہے۔۔ٹالیوس کے ذریعے میراج 2000 ڈی دن ہو یا رات۔۔دور سے اہداف کی شناخت کرسکے گا۔۔متحرک گاڑیوں اور دیگر اہداف کی نگرانی کرسکے گا۔۔اور ہدف کی تصاویر اور معلومات براہِ راست زمین پر موجود اہلکاروں تک پہنچا سکے گا۔۔یعنی ایک ہی پرواز میں جاسوسی، نگرانی اور حملے کی صلاحیت مزید مؤثر ہوجائے گی۔۔فرانس نے میراج 2000 ڈی کی جدید کاری میں تیس ملی میٹر توپ، میکا حرارت شکن میزائل اور جدید درست نشانے والے بموں کے استعمال کی صلاحیت بھی شامل کی ہے۔۔لیکن کہانی کا اصل موڑ یہ ہے کہ ٹالیوس ملنے کے باوجود میراج 2000 ڈی رافیل نہیں بن گیا۔۔اس میں رافیل جیسی خفیہ رہنے کی صلاحیت، جدید ریڈار، جدید برقی دفاعی نظام اور میٹیور جیسے طویل فاصلے کے میزائل موجود نہیں۔۔یعنی فرانس نے پرانے طیارے کو نیا جنم ضرور دیا ہے۔۔
مگر اسے جدید ترین جنگی طیاروں کا مکمل متبادل نہیں بنایا۔۔اب میراج 2000 ڈی صرف پرانا جنگی طیارہ نہیں۔۔بلکہ جدید ’’آنکھ‘‘ کے ساتھ فرانس کی فضائی طاقت کا ایک اور مؤثر ہتھیار ہے












