میڈرڈ ( پاک ترک نیوز) 2030 کے فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل کی میزبانی کا معاملہ اسپین اور مراکش کے درمیان اختلاف کی وجہ بن گیا، اسپین کی اپوزیشن جماعت کے رہنما نے دھمکی دی ہے کہ اگر فائنل مراکش میں ہوا تو اسپین ٹورنامنٹ کی مشترکہ میزبانی سے دستبردار ہو سکتا ہے۔اسپین کی بڑی اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پیپلز پارٹی کے رہنما البرٹو نونیز فیخو نے کہا ہے کہ اگر وہ وزیراعظم منتخب ہوئے تو مراکش کو فائنل کی میزبانی ملنے کی صورت میں اسپین کی جانب سے ورلڈ کپ کے انعقاد میں تعاون ختم کرنے کی حمایت کریں گے۔2030 کا فٹبال ورلڈ کپ اسپین، مراکش اور پرتگال میں مشترکہ طور پر کھیلا جائے گا، جبکہ پہلے تین میچز ورلڈ کپ کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں یوروگوئے، ارجنٹینا اور پیراگوئے میں ہوں گے۔ پہلا ورلڈ کپ 1930 میں منعقد ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں بھونچال، کھربوں ڈالر ڈوب گئے
ٹورنامنٹ کے لیے اسپین کے 11، مراکش کے 6 اور پرتگال کے 3 اسٹیڈیمز مختص کیے گئے ہیں، تاہم فائنل کے مقام کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔مراکش کے شہر کاسابلانکا میں زیرِ منصوبہ 1 لاکھ 15 ہزار نشستوں والا حسن دوم اسٹیڈیم فائنل کی میزبانی کا ممکنہ امیدوار ہے۔ اس کے علاوہ اسپین کے سینتیاگو برنابیو اسٹیڈیم اور بارسلونا کے کیمپ نو اسٹیڈیم کے نام بھی زیرِ غور ہیں، جہاں تزئین و آرائش کے بعد ایک لاکھ 5 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہوگی۔












