واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد عالمی ٹیکنالوجی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو سے کھربوں ڈالر کم ہوگئے۔بی بی سی کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ کے باعث امریکی ٹیکنالوجی پر مشتمل نیسڈیک انڈیکس 5.5 فیصد سے زیادہ نیچے آگیا، جبکہ ایک ہی دن میں تقریباً 2.5 کھرب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو ختم ہوگئی۔ دیگر بڑے امریکی اسٹاک انڈیکسز میں بھی 2025 کے بعد کی بدترین گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
ایشیائی مارکیٹوں میں بھی مندی کی لہر پھیل گئی۔ جاپان کا نکی 225 انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 6 فیصد گر گیا، جبکہ چپ ساز کمپنی کیوشیا کے حصص 12.6 فیصد سے زیادہ نیچے آگئے۔ جنوبی کوریا میں ایس کے ہائنکس کے حصص میں 11.5 فیصد اور سام سنگ کے حصص میں تقریباً 10 فیصد کمی ہوئی۔جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 8.5 فیصد سے زیادہ گراوٹ کے بعد عارضی طور پر کاروبار روکنا پڑا، جبکہ تائیوان کا ٹائیکس انڈیکس بھی 8.3 فیصد سے زیادہ گر گیا۔ چپ ساز کمپنی ٹی ایس ایم سی کے حصص میں تقریباً 8.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔مندی کی ایک بڑی وجہ امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو قرار دیا جارہا ہے، جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی تعمیرات محدود کرنے کے وعدے کیے تھے۔ ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں کامیابی حاصل کرکے کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ڈیموکریٹ رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ماحولیات، روزگار اور انسانی مستقبل کے لیے خطرات پیدا کرسکتی ہے، اس لیے اس شعبے کو مؤثر نگرانی اور ضابطوں کے تحت لانا ضروری ہے۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے ملک بھر میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات کے نتائج کو اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی گراوٹ کی وجہ قرار دیتے ہوئے ڈیموکریٹس پر تنقید کی۔اے آئی سے منسلک کمپنیوں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ امریکی کمپنی اینویڈیا کے حصص 9 فیصد سے زیادہ گر گئے، جس سے اس کی مارکیٹ ویلیو میں 400 ارب ڈالر سے زائد کی کمی ہوئی۔ اے ایم ڈی اور مائکرون کے حصص 17 فیصد سے زیادہ جبکہ انٹیل کے حصص 10.3 فیصد نیچے آگئے۔ایلون مسک کی کمپنیوں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو میں بھی مجموعی طور پر 300 ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ہوئی۔ جبکہ ایپل، اینویڈیا اور ٹیسلا سمیت بڑی سات ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مجموعی مالیت ایک ہی کاروباری دن میں ایک کھرب ڈالر کم ہوگئی۔
امریکی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 4.4 فیصد اور ڈاؤ جونز انڈیکس 3.4 فیصد سے زیادہ کمی کے ساتھ بند ہوا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اے آئی انفرااسٹرکچر پر بھاری اخراجات کے مستقبل اور ان سرمایہ کاریوں سے متوقع منافع کے بارے میں خدشات نے سرمایہ کاروں کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔











