ٹوکیو ( پاک ترک نیوز) جاپان نے چھٹی نسل کے جدید لڑاکا طیارے کی تیاری کے مشترکہ منصوبے جی سی اے پی (GCAP) میں جرمنی کی مکمل شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جاپانی حکام کے مطابق جرمنی کو مکمل شراکت دار بنانے کی صورت میں منصوبے میں کام کی تقسیم پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے طیارے کی تیاری میں تاخیر کا خدشہ ہے۔رپورٹ کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائچی سے ملاقات کے دوران جی سی اے پی منصوبے میں جرمنی کے تعاون کی تجویز پیش کی تھی۔ اس منصوبے میں برطانیہ، جاپان اور اٹلی مشترکہ طور پر چھٹی نسل کا لڑاکا طیارہ تیار کر رہے ہیں۔
جاپان کو خدشہ ہے کہ نئے شراکت دار کی شمولیت سے منصوبے کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے، کیونکہ طیارے کو 2035 تک آپریشنل کرنے کا ہدف پہلے ہی تاخیر کے خطرے سے دوچار ہے۔ جاپانی مؤقف کے مطابق اگر برطانیہ جرمنی کو شامل کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے حصے سے گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔دوسری جانب جرمنی کی شمولیت سے ترقیاتی اخراجات تقسیم کرنے اور یورپی دفاعی تعاون بڑھانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ تاہم جرمن دفاعی صنعت کے لیے محض مبصر کی حیثیت قابلِ قبول ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ جرمنی منصوبے میں خاطرخواہ صنعتی کردار چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملائیشیا کو جنوبی کوریا کے پہلے دو ایف اے 50 ایم لڑاکا طیارے مل گئے
رپورٹ کے مطابق جی سی اے پی کے لیے مشترکہ کمپنی ایج وِنگ قائم کی جاچکی ہے، جبکہ ایف سی اے ڈی ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریٹر کی پہلی آزمائشی پرواز 2028 میں متوقع ہے۔












