واشنگٹن (پاک ترک نیوز) آسمان میں لڑاکا طیارہ ہوگا، مگر اس کے اندر کوئی پائلٹ نہیں ہوگا! انسانی پائلٹ کے ساتھ مل کر مشن انجام دینے والے نئے امریکی جنگی طیارے کی تیاری میں اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ یہ طیارہ کیسے کام کرے گا اور فضائی جنگ میں کیا کردار ادا کرسکے گا؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
ذرا تصور کیجیے۔۔۔ جنگی محاذ کی جانب بڑھتے لڑاکا طیارے۔۔۔ اور ان کے ساتھ ایسے طیارے بھی، جن کے اندر کوئی انسان موجود نہیں،یہ کسی فلم کا منظر نہیں، بلکہ امریکی فضائیہ کے ایک نئے منصوبے کا تصور ہے!امریکی دفاعی کمپنی جنرل اٹامکس نے بغیر پائلٹ لڑاکا طیارے، ایف کیو بیالیس وینجینس، کے بنیادی ڈھانچے کی پیداوار میں تعاون کے لیے اسپرٹ ڈیفنس سے ہاتھ ملا لیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس شراکت کا مقصد پیداواری صلاحیت بڑھانا اور بڑی تعداد میں طیاروں کی تیاری کے لیے صنعتی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔ تاہم فراہم کردہ اعلان میں باقاعدہ پیداوار شروع ہونے کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔اس منصوبے کی خاص بات صرف پائلٹ کی غیر موجودگی نہیں۔۔۔ اصل توجہ انسان اور مشین کی مشترکہ کارروائی پر ہے
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملے، بچوں سمیت 8 فلسطینی شہید، متعدد زخمی
کمپنی کا کہنا ہے کہ طیارے کے نظام کو پیچیدہ جنگی حالات میں انسانی پائلٹوں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یعنی مستقبل کے فضائی دستے میں انسان کے زیرِ قیادت لڑاکا طیاروں کے ساتھ بغیر پائلٹ معاون طیارے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔اس طیارے کی ساخت ایسی رکھی گئی ہے کہ مشن کے تقاضوں کے مطابق اس کے آلات اور خودکار نظام میں تیزی سے تبدیلی کی جاسکے۔کمپنی اسی تصور پر مبنی طیاروں کے خاندان کو طویل نگرانی، فضائی لڑائی، زمینی اہداف پر درست حملوں اور دشمن کے فضائی دفاع کے خلاف کارروائیوں کے لیے پیش کر رہی ہے۔ یہ مجوزہ کردار ہیں؛ ہر صلاحیت کے عملی طور پر دستیاب ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
امریکی فضائیہ نے دو ہزار چوبیس میں جنرل اٹامکس کو آزمائشی طیاروں کی تیاری کے لیے منتخب کیا تھا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق وائی ایف کیو بیالیس اے نے اگست دو ہزار پچیس میں پہلی پرواز کی۔












