لندن ( پاک ترک نیوز) انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی مسلسل شکستوں کے بعد ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ناصر حسین کے مطابق آخری ٹیسٹ سے قبل اچانک سات کھلاڑیوں کو باہر کرنا اور کوچنگ اسٹاف میں تبدیلیاں کرنا ٹیم کی تعمیر کا درست طریقہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو مزید دباؤ میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ اسے ’’تماشا‘‘ بنا دیا ہے۔
پاکستان کو ہیڈنگلے اور لارڈز ٹیسٹ میں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا اور سیریز میں انگلینڈ کو دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ ایجبسٹن میں 9 ستمبر سے شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان نے امام الحق، محمد رضوان، علی عثمان اور خرم شہزاد سمیت سات کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کردیا ہے۔ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور اسسٹنٹ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا، جبکہ وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کو دورہ انگلینڈ کے باقی حصے کے لیے ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ناصر حسین نے امام الحق کے معاملے پر بھی عاقب جاوید کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عاقب جاوید نے کہا تھا کہ لارڈز ٹیسٹ میں پنڈلی کی تکلیف کے باعث امام دونوں اننگز میں بیٹنگ نہ کرسکے، جس پر ان کے خلاف انکوائری ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ ٹیم تیسرے ٹیسٹ کیلئے برمنگھم پہنچ گئی
ناصر حسین کا کہنا تھا کہ کسی کھلاڑی کے زخمی ہونے کی صورت میں اسے عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ٹیم انتظامیہ کو اپنے کھلاڑی کا تحفظ کرنا چاہیے۔سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن نے بھی پاکستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں سے طویل المدتی بنیادوں پر ٹیم بنانا ممکن نہیں۔ایتھرٹن نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں کپتان بابر اعظم ٹیم کے اندر اپنی اتھارٹی کس طرح قائم رکھ سکتے ہیں۔
ناصر حسین کے مطابق اچھی ٹیم بنانے کے لیے کھلاڑیوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہوتا ہے کہ وہ ٹیم کا اہم حصہ ہیں، جبکہ اچانک سینئر کھلاڑیوں کو گھر بھیجنے سے اس کے برعکس پیغام جاتا ہے۔پاکستان اب ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میں وائٹ واش سے بچنے اور سیریز کا آخری میچ جیتنے کے لیے میدان میں اترے گا۔












