اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ آج پیش ہوگا، تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف، دفاعی اخراجات میں اضافہ اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیاں متوقع ہے ۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس محصولات کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ نان ٹیکس ریونیو سے 2 ہزار 767 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ۔
حکومت نے نئے مالی سال میں معاشی شرح نمو 4 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ مہنگائی کو 8 اعشاریہ 2 فیصد تک محدود رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کا سب سے بڑا چیلنج درپیش رہے گا۔ صرف سود کی ادائیگی کیلئے 7 ہزار 824 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو مجموعی اخراجات کا ایک بڑا حصہ ہے۔
دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور اسے تقریباً 3 ہزار ارب روپے تک بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ بجٹ خدوخال کے مطابق دفاع اور داخلہ کے شعبوں کے سوا کسی بڑے نئے ترقیاتی منصوبے کا آغاز نہیں کیا جائے گا جبکہ جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی جائے گی۔
ترقیاتی اخراجات کیلئے مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام کا حجم 3 ہزار 669 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے جبکہ صوبائی ترقیاتی منصوبوں کیلئے 2 ہزار 218 ارب روپے رکھے جائیں گے۔
تاہم مالی نظم و ضبط کے تحت ترقیاتی اخراجات میں بچت کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 701 ارب روپے، سندھ میں 110 ارب روپے اور خیبرپختونخوا میں 109 ارب روپے کی کمی تجویز کی گئی ہے۔
بجٹ میں برآمدات کا ہدف 32 اعشاریہ 8 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس طرح تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا خدشہ برقرار ہے۔
زرعی شعبے کی شرح نمو 3 اعشاریہ 8 فیصد، صنعتی شعبے کی 4 فیصد، بڑی صنعتوں کی 4 اعشاریہ 5 فیصد اور خدمات کے شعبے کی ترقی 4 اعشاریہ 2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
روزگار کے شعبے میں حکومت نے 20 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ، صنعت میں 5 لاکھ جبکہ زرعی شعبے میں 4 لاکھ نئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا منصوبہ بجٹ کا حصہ ہے۔
تنخواہ دار طبقے کیلئے بجٹ میں اہم ریلیف متوقع ہے۔ حکومت تقریباً 60 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف پر غور کر رہی ہے۔ انکم ٹیکس سلیب 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن والے افراد کیلئے ریلیف پیکج تیار کیا گیا ہے جبکہ دو لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ آمدن والے طبقے کیلئے ٹیکس شرح 25 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔












