کیلیفورنیا ( پاک ترک نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا نے زحل کے چاند ٹائٹن کی زیرِ زمین غاروں اور دشوار گزار علاقوں کی کھوج کے لیے چھوٹے اڑنے والے گول نما روبوٹس تیار کرنے کے منصوبے کی مالی معاونت شروع کردی ہے۔
ناسا کے ابتدائی تحقیقی پروگرام کے تحت ایسے خودکار فضائی روبوٹس تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو ٹائٹن کی غاروں میں داخل ہوکر وہاں موجود ماحول اور جغرافیائی ساخت کا جائزہ لے سکیں۔
ٹائٹن کو نظامِ شمسی کے زمین سے مشابہ ترین اجرام میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی سطح پر دریا، جھیلیں اور سمندروں جیسی ساختیں موجود ہیں، تاہم وہاں پانی کے بجائے میتھین اور ایتھین جیسے ہائیڈروکاربن پائے جاتے ہیں۔
روایتی گاڑی کے بجائے اڑنے والے روبوٹس
سائنس دانوں کے مطابق ٹائٹن کی پیچیدہ اور دشوار گزار سطح کے باعث پہیوں والی خلائی گاڑی کے لیے زیرِ زمین غاروں تک پہنچنا مشکل ہوگا۔
اس کے مقابلے میں چھوٹے فضائی روبوٹس غاروں کے اندر پرواز کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچ سکتے ہیں جہاں زمینی گاڑی کا پہنچنا ممکن نہیں۔
اس منصوبے کا نام ’’اسپارک‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا مقصد خودکار فضائی روبوٹس کے ذریعے ٹائٹن کی غاروں اور زیرِ زمین ساختوں کا جائزہ لینا ہے۔
منصوبے میں روایتی پنکھوں یا انجن کے بجائے بجلی کے ذریعے حرکت پیدا کرنے والی نئی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔
اس نظام میں برقی میدان کے ذریعے ہوا کو حرکت دے کر روبوٹ کو فضا میں اٹھانے اور آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: نصف صدی بعد انسان کا چاند کی سمت نیا سفر، ناسا کا مشن تیار
تحقیق کے سربراہ ڈینیئل ڈریو کے مطابق اس نظام کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں حرکت کرنے والے پرزے کم ہوں گے، شور بہت کم ہوگا اور انتہائی سرد ماحول میں بھی اس کے استعمال کے امکانات موجود ہیں۔
تاہم اس ٹیکنالوجی کی ایک بڑی خامی کم کارکردگی ہے، جس کے باعث زمین پر روایتی انجنوں اور پنکھوں کے مقابلے میں اس کا استعمال فی الحال محدود ہے۔
ناسا کا ٹائٹن کی تحقیق کے لیے تیار کیا جانے والا ڈریگن فلائی مشن 2028 میں روانہ کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔تاہم نئے فضائی روبوٹ منصوبے پر ابتدائی تحقیق ابھی صرف نو ماہ کے مرحلے میں داخل ہوئی ہے، جبکہ مزید کامیاب مراحل کے لیے دو سال تک کا اضافی وقت درکار ہوسکتا ہے۔اس لیے فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ روبوٹ ڈریگن فلائی مشن کے ساتھ ٹائٹن تک پہنچ سکیں گے یا مستقبل کے کسی مشن میں ان کا استعمال ہوگا۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہوئی تو ٹائٹن کی فضائی تحقیق میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔مریخ پر ناسا کا چھوٹا ہیلی کاپٹر اپنی مقررہ مدت سے کہیں زیادہ کامیاب پروازیں کرچکا ہے۔ اسی تجربے سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے سائنس دان اب دوسرے سیاروں اور چاندوں پر بھی چھوٹے فضائی روبوٹس کے استعمال کے امکانات تلاش کررہے ہیں۔
اس نئی ٹیکنالوجی کو مستقبل میں صرف خلائی تحقیق تک محدود رکھنے کے بجائے چھوٹے فضائی آلات، اندرونی مقامات کی نگرانی اور چھوٹے خودکار روبوٹس کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔










