کیلیفورنیا:(پاک ترک نیوز)تقریباً پچاس سال کے وقفے کے بعد انسان ایک بار پھر چاند کی جانب روانہ ہونے جا رہا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کا تاریخی آرٹیمس دوم مشن آئندہ چند ہفتوں میں لانچ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے، جو مستقبل میں انسان کو دوبارہ چاند کی سطح تک پہنچانے کی بنیاد بنے گا۔
اس مقصد کے لیے ناسا کے دیوہیکل اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ اور اوریون خلائی جہاز کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں لانچ پیڈ 39B تک منتقل کر دیا گیا ہے۔
تقریباً 98 میٹر بلند یہ راکٹ ایک خصوصی کرالر ٹرانسپورٹر کے ذریعے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد لانچ مقام پر پہنچا، جہاں اب اس کے حتمی ٹیسٹ اور جانچ کا عمل جاری ہے۔
آرٹیمس دوم ایک 10 روزہ انسانی مشن ہوگا، جس میں چار خلا نورد پہلی بار جدید دور میں چاند کے گرد چکر لگائیں گے، تاہم اس مشن میں چاند پر لینڈنگ شامل نہیں۔
ناسا کے مطابق یہ پرواز ایسے خلا ئی راستوں اور مقامات تک جائے گی جہاں آج تک کوئی انسان نہیں پہنچ سکا۔ناسا کا کہنا ہے کہ مشن کی ممکنہ ابتدائی لانچ تاریخ فروری کے اوائل رکھی گئی ہے، جبکہ موسم یا تکنیکی وجوہات کی صورت میں مارچ اور اپریل میں بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔ روانگی سے قبل راکٹ کو ویٹ ڈریس ریہرسل سمیت کئی اہم آزمائشی مراحل سے گزارا جائے گا، جن میں ایندھن بھرنے اور کاؤنٹ ڈاؤن کے نظام کی مکمل جانچ شامل ہے۔
اس مشن کے عملے میں ناسا کے خلا نورد ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے خلا نورد جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ یہ چاروں خلا نورد چاند کی جانب روانگی سے قبل زمین کے گرد مدار میں ابتدائی دن گزاریں گے، جس کے بعد خلائی جہاز چاند کی سمت طویل سفر کا آغاز کرے گا۔
خلائی پرواز کے دوران خلا نورد چاند کے پچھلے حصے کے گرد پرواز کریں گے، جہاں وہ مشاہدات، تصاویر اور سائنسی ڈیٹا اکٹھا کریں گے۔ یہ معلومات مستقبل میں چاند کے جنوبی قطب پر مجوزہ لینڈنگ کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کریں گی۔اوریون خلائی جہاز کا وہ حصہ جس میں خلا نورد سفر کریں گے، یورپ میں تیار کیا گیا ہے۔
یہ یورپی سروس ماڈیول خلائی جہاز کو توانائی، آکسیجن، پانی اور حرکت فراہم کرتا ہے اور اس منصوبے میں یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون کی علامت ہے۔ناسا حکام کے مطابق آرٹیمس دوم مشن اپولو پروگرام کے بعد انسانی خلائی تاریخ کا سب سے اہم قدم ہے، جس کا حتمی مقصد آرٹیمس سوم کے ذریعے انسان کو دوبارہ چاند پر اتارنا ہے۔
تاہم آرٹیمس سوم کا لانچ 2027 یا اس کے بعد متوقع ہے۔اگرچہ یہ مشن پہلے ہی کئی سال تاخیر کا شکار رہا ہے، لیکن ناسا کا واضح مؤقف ہے کہ کسی بھی صورت میں خلا نوردوں کی حفاظت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ناسا کے مطابق یہ مشن صرف ایک پرواز نہیں بلکہ انسان کے مستقبل کے بین السیاروی سفر کی بنیاد ہے۔












