پیرس ] پاک ترک نیوز) یورپ اس وقت شدید گرمی کی ایسی لہر کی زد میں ہے جس نے کئی ممالک میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، ریڈ الرٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور لاکھوں افراد غیر معمولی موسمی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس شدید گرمی کے پیچھے ایک طاقتور موسمی نظام ہے، جسے ہیٹ ڈوم کہا جاتا ہے۔
ہیٹ ڈوم دراصل گرم ہوا کا ایک وسیع گنبد نما نظام ہوتا ہے، جو صحرائے صحارا سے آنے والی تپتی ہوا کو یورپ کے اوپر قید کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گرمی کئی روز تک ایک ہی علاقے میں پھنس جاتی ہے اور درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
اس دوران بلند دباؤ کا طاقتور نظام بادل بننے سے روکتا ہے، جس کے باعث سورج کی تیز شعاعیں مسلسل زمین کو گرم کرتی رہتی ہیں۔ یوں ہر گزرتے دن کے ساتھ گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور درجہ حرارت نئے ریکارڈ قائم کرنے لگتا ہے۔
ماہرین اس صورتحال کو بند بھٹی سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں گرمی باہر نکلنے کے بجائے مسلسل جمع ہوتی رہتی ہے۔ اسی غیر معمولی گرمی نے کئی یورپی ممالک میں سڑکوں، ریلوے ٹریکس، بجلی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، کیونکہ یہ انفراسٹرکچر اتنی شدید گرمی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ میں لوگ اے سی کیوں نہیں لگاتے
سائنسدانوں کے مطابق یہ صرف ایک وقتی موسمی تبدیلی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح علامت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوسل فیولز کے مسلسل استعمال اور گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے اخراج نے زمین کا درجہ حرارت مسلسل بلند کیا ہے، اور اگر عالمی سطح پر کاربن اخراج میں کمی نہ لائی گئی تو آئندہ دہائیوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہیٹ ڈوم صرف یورپ تک محدود رہے گا، یا مستقبل میں دنیا کے دیگر خطے بھی اسی شدت کی گرمی اور موسمی خطرات کا سامنا کریں گے؟ یہی وہ خدشہ ہے جس پر آج پوری دنیا کے ماہرین نظریں جمائے ہوئے ہیں۔












