لاہور( پاک ترک نیوز) کیا آپ بھی اے سی بند کرکے فوراً دوبارہ چلا دیتے ہیں؟
گرمی کی شدت بڑھتے ہی ایئر کنڈیشنر ہر گھر کی ضرورت بن جاتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اے سی استعمال کرنے کا ایک اہم اصول تھری منٹ رول بھی ہے، جس پر عمل نہ کرنے سے مشین کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور مہنگی مرمت کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جب اے سی بند ہوتا ہے تو اس کا کمپریسر فوری طور پر دوبارہ چلانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اسی لیے جدید ایئر کنڈیشنرز میں ایک حفاظتی نظام نصب ہوتا ہے جو کمپریسر کو تقریباً تین سے پانچ منٹ تک دوبارہ اسٹارٹ ہونے سے روکے رکھتا ہے۔
کمپریسر کسی بھی ایئر کنڈیشنر کا دل سمجھا جاتا ہے۔ یہی حصہ ریفریجرنٹ گیس کو دباؤ کے ساتھ گردش کراتا ہے، جس سے گھر کے اندر کی گرمی باہر منتقل ہوتی ہے اور کمرہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔
اگر کمپریسر کو بند ہوتے ہی دوبارہ چلایا جائے تو اس پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے، جس سے نہ صرف اس کی عمر کم ہو سکتی ہے بلکہ بجلی کا زیادہ استعمال، کولنگ میں کمی اور بار بار خرابی جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار آن اور آف ہونے والا اے سی بعض اوقات کمرے کو تو ٹھنڈا کر دیتا ہے لیکن نمی ختم نہیں کر پاتا، جس سے ماحول چپچپا محسوس ہوتا ہے اور مختلف کمروں کا درجہ حرارت بھی یکساں نہیں رہتا۔
یہ بھی پڑھیں: گرمی میں جسم آخر مانگتا کیا ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر کولنگ سسٹم اس اصول پر عمل نہیں کرتا۔ مثلاً ایواپوریٹو کولرز، جنہیں عام طور پر "سوامپ کولرز” بھی کہا جاتا ہے، کمپریسر کے بجائے پانی کے بخارات کے ذریعے ٹھنڈک پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں تین منٹ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم یہ نظام زیادہ مؤثر طور پر خشک آب و ہوا میں کام کرتا ہے اور اسے مسلسل پانی کی فراہمی درکار ہوتی ہے۔
اسی طرح بڑے تجارتی مراکز اور صنعتی عمارتوں میں استعمال ہونے والے ایبزارپشن کولنگ سسٹمز بھی کمپریسر کے بجائے حرارت سے چلنے والے مختلف نظام استعمال کرتے ہیں۔
تو اگلی بار اگر آپ کا اے سی بند ہو جائے تو فوراً دوبارہ آن کرنے کے بجائے کم از کم تین منٹ انتظار ضرور کریں۔
یہ مختصر سا انتظار نہ صرف آپ کے ایئر کنڈیشنر کی عمر بڑھا سکتا ہے بلکہ بجلی کی بچت، بہتر کولنگ اور مہنگی مرمت سے بھی بچا سکتا ہے۔ یاد رکھیں صرف تین منٹ کا صبر، ہزاروں روپے کی بچت کا سبب بن سکتا ہے۔












