لاہور( پاک ترک نیوز)ایمرجنسی یا گورنر راج؟ دونوں میں کیا فرق ہے؟
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی باتیں ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔۔۔لیکن سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج میں بنیادی فرق کیا ہے؟آئین پاکستان ان دونوں کے بارے میں کیا کہتا ہے؟اور ملک کی تاریخ میں مختلف صوبوں میں گورنر راج کب کب نافذ کیا گیا؟پاکستان میں ایمرجنسی اور گورنر راج ایک ہی چیز نہیں بلکہ آئین میں دونوں کے لیے الگ الگ شقیں موجود ہیں۔ایمرجنسی کا تعلق غیر معمولی قومی یا صوبائی بحران سے ہے۔ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی کی صورت میں ہنگامی حالت نافذ کی جا سکتی ہے جس سے ملک یا کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ ہو۔
آئین میں صوبے کے معاملات پر وفاقی اختیار بڑھانے کی گنجائش بھی اسی ہنگامی صورت حال کے تحت موجود ہے۔دوسری جانب گورنر راج کا بنیادی تعلق صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی سے ہے۔آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت اگر صدر، گورنر کی رپورٹ پر مطمئن ہوں کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی تو صدر اعلان کے ذریعے گورنر کو صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات سنبھالنے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل گرڈ پر عوام کا انحصار بڑھ گیا، بجلی کی فروخت میں1.8فیصد اضافہ
یعنی سادہ الفاظ میں۔۔۔ایمرجنسی = غیر معمولی قومی یا صوبائی بحرانجبکہگورنر راج = صوبے میں آئینی نظام چلانے میں ناکامیگورنر راج کے دوران صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر یا وفاقی اختیار میں منتقل ہو سکتے ہیں، جبکہ صوبائی اسمبلی کی حیثیت اور اختیارات کا معاملہ آئینی شرائط کے مطابق طے ہوتا ہے۔ ماضی میں ایسے اقدامات کے دوران بعض صوبائی اسمبلیوں کو برقرار بھی رکھا گیا۔پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ نئی نہیں۔پنجاب میں پہلی بار 1949 میں گورنر راج نافذ ہوا جو 1951 تک جاری رہا۔پنجاب میں دوبارہ 1999 سے 2002 تک گورنر راج رہا، جبکہ 2009 میں بھی تقریباً ایک ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت سلمان تاثیر نے صوبائی انتظام سنبھالا تھا۔خیبر پختونخوا میں تین مرتبہ گورنر راج نافذ ہوا۔پہلی بار 1975 میں، دوسری مرتبہ 1994 میں، جبکہ تیسری مرتبہ 1999 سے 2002 تک گورنر راج رہا۔بلوچستان میں بھی متعدد مرتبہ گورنر راج نافذ کیا گیا۔ 1973، 1975، 1999 اور 2013 اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔2013 میں بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے پس منظر میں گورنر راج نافذ کیا گیا، جو تقریباً دو ماہ بعد ختم ہوا۔سندھ میں 1998 کا واقعہ بھی اہم مثال ہے۔اس وقت صوبے میں امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال کے تناظر میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ سرکاری حکم نامے میں گورنر کو صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھالنے اور امن بحال کرنے کے لیے اقدامات کا اختیار دیا گیا تھا۔
پاکستان میں ایمرجنسی بھی مختلف مواقع پر نافذ ہوتی رہی ہے۔آئینی ریکارڈ کے مطابق 28 مئی 1998 کو بھی آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ 1971 میں بھی ایمرجنسی نافذ رہی۔اگر معاملہ پورے ملک یا کسی حصے کی سلامتی کو درپیش غیر معمولی خطرے کا ہو تو ایمرجنسی کا آئینی راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔لیکن اگر مسئلہ کسی صوبے میں آئینی مشینری کے ناکام ہونے کا ہو تو آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا راستہ موجود ہے۔اس لیے ہر امن و امان کا بحران خود بخود گورنر راج یا ایمرجنسی کا جواز نہیں بنتا۔ آئین دونوں اقدامات کے لیے مخصوص شرائط مقرر کرتا ہے۔












