لاہور( پاک ترک نیوز) پرائیویٹ جیٹ میں سفر… ایک ایسی سہولت جسے اکثر لوگ صرف ارب پتی افراد یا عالمی شخصیات سے جوڑتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ 2026 میں پرائیویٹ جیٹ کرائے پر لینے کی اصل لاگت کتنی ہے؟ اور کیا بعض حالات میں یہ سفر بزنس کلاس سے بھی سستا پڑ سکتا ہے؟
تازہ بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ جیٹ چارٹر کی قیمت ایک جیسی نہیں ہوتی بلکہ اس کا انحصار طیارے کی قسم، سفر کے فاصلے، مسافروں کی تعداد، ایئرپورٹ فیس، ایندھن، ٹیکسز اور طلب پر ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے کم قیمت والے ٹربوپراپ طیارے تقریباً دو ہزار امریکی ڈالر فی گھنٹہ سے دستیاب ہوتے ہیں۔ ان میں بیچ کرافٹ کنگ ایئر 350 جیسے طیارے شامل ہیں، جو مختصر علاقائی سفر کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں اور کم آپریٹنگ اخراجات کی وجہ سے نسبتاً سستے ہوتے ہیں۔
اس کے بعد لائٹ اور ویری لائٹ جیٹس آتے ہیں، جن میں ہونڈا جیٹ جیسے طیارے شامل ہیں۔ یہ چار سے آٹھ مسافروں کو لے جا سکتے ہیں اور ان کا کرایہ عموماً دو ہزار پانچ سو سے چار ہزار پانچ سو ڈالر فی گھنٹہ کے درمیان ہوتا ہے
اگر سفر طویل ہو تو مڈ سائز اور سپر مڈ سائز جیٹس زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ سیسنا سٹیشن لیٹیٹیوڈ اور بمبارڈیئر چیلنجر 350 جیسے طیارے کھڑے ہو کر چلنے کے قابل کشادہ کیبن، زیادہ سامان رکھنے کی گنجائش اور لمبی پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کرایہ عموماً 4 ہزار سے 8 ہزار ڈالر فی گھنٹہ ہوتا ہے، جبکہ کئی آپریٹرز سپر مڈ سائز جیٹ کے لیے تقریباً 6 ہزار 500 ڈالر فی گھنٹہ وصول کرتے ہیں اگر سفر طویل ہو تو مڈ سائز اور سپر مڈ سائز جیٹس زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ ،ان کا کرایہ چار ہزار سے آٹھ ہزار ڈالر فی گھنٹہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا فیول سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فی گھنٹہ کرایہ دیکھنا کافی نہیں، کیونکہ اصل بل میں کئی اضافی اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔
امریکا میں گھریلو پروازوں پر فیڈرل ایکسائز ٹیکس کے طور پر چارٹر لاگت کا ساڑھے سات فیصد اضافی ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹ ہینڈلنگ فیس، عملے کے قیام کے اخراجات، سردیوں میں برف ہٹانے کی فیس، فیول سرچارج، لینڈنگ چارجز اور دیگر انتظامی اخراجات بھی شامل کیے جاتے ہیں، جس سے مجموعی لاگت میں ہزاروں ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایک اور اہم خرچ پوزیشننگ فیس ہے۔ اگر پرائیویٹ جیٹ پہلے سے کسی دوسرے شہر یا ایئرپورٹ پر موجود ہو تو اسے خالی پرواز کر کے مسافروں تک پہنچنا پڑتا ہے، اور اکثر کمپنی یہ خرچ بھی گاہک سے وصول کرتی ہے۔ اسی وجہ سے ایک جیسے فاصلے کی دو پروازوں کے کرایوں میں نمایاں فرق آ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال کے مخصوص مواقع پر پرائیویٹ جیٹ کے کرایوں میں نمایاں اضافہ بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ کرسمس، نیو ایئر، تھینکس گیونگ، گرمیوں کی تعطیلات، فارمولا ون ریس، سپر باؤل، ورلڈ اکنامک فورم اور بڑے عالمی کھیلوں کے مقابلوں کے دوران طلب بڑھنے سے کرایوں میں دس سے تیس فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمرشل ایئرلائنز کے برعکس چارٹر کمپنیوں کے پاس اضافی طیارے فوری فراہم کرنے کی سہولت نہیں ہوتی، اس لیے مصروف سیزن میں بکنگ کئی ہفتے پہلے مکمل ہو جاتی ہے۔
رپورٹ میں یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اگر مسافر اپنے سفر کے اوقات میں لچک رکھیں تو وہ ایمپٹی لیگ فلائٹس سے غیر معمولی بچت کر سکتے ہیں۔












