لاہور(پاک ترک نیوز)کیا خوراک میں تبدیلی اور باقاعدہ ورزش سے ذیابیطس کو اس حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے کہ ادویات کے بغیر بھی خون میں شوگر کی سطح معمول کے قریب آ جائے؟ نئی طبی تحقیق نے اس حوالے سے امید افزا نتائج پیش کر دیے ہیں۔
برطانیہ اور کینیڈا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا 45 سال سے کم عمر افراد میں سے 54 فیصد نے صرف چھ ماہ میں بیماری کی ریمیشن حاصل کر لی، جبکہ معمول کا علاج کروانے والے گروپ میں یہ شرح محض 4 فیصد رہی۔
تحقیق میں 18 سے 45 سال کی عمر کے 96 افراد شامل کیے گئے، جنہیں موٹاپا بھی لاحق تھا اور وہ انسولین استعمال نہیں کر رہے تھے۔ ان میں سے 50 افراد کو خصوصی غذائی اور ورزشی پروگرام دیا گیا، جبکہ 46 افراد معمول کے طبی علاج پر رہے۔
خصوصی پروگرام کے ابتدائی 12 ہفتوں میں روزانہ صرف 800 سے 900 کیلوریز پر مشتمل خوراک دی گئی۔ اس کے ساتھ ہفتے میں دو مرتبہ ماہرین کی نگرانی میں ایروبک اور مزاحمتی ورزشیں کروائی گئیں، جبکہ ایک دن خود ورزش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ بعد کے 12 ہفتوں میں وزن برقرار رکھنے والی خوراک اور ورزش پر توجہ دی گئی۔
نتائج کے مطابق، خصوصی پروگرام میں شامل 50 افراد میں سے 27 نے ریمیشن حاصل کی، جبکہ معمول کا علاج لینے والے 46 افراد میں سے صرف دو اس مرحلے تک پہنچ سکے۔
تحقیق میں وزن میں کمی کے حوالے سے بھی نمایاں فرق سامنے آیا۔ خصوصی پروگرام میں شامل افراد کا اوسط وزن تقریباً 8.4 کلوگرام کم ہوا، جبکہ معمول کا علاج لینے والے گروپ میں اوسط کمی صرف 1.2 کلوگرام رہی۔
تحقیق کی ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ تیزی سے وزن کم کرنے کے دوران پٹھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مزاحمتی ورزشوں کو پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔ محققین کے مطابق اس طریقے سے چربی کم کرنے، جسمانی کارکردگی بہتر بنانے اور پٹھوں کی حفاظت میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، خصوصی خوراک لینے والے افراد میں قبض، سر درد، چکر آنے اور تھکاوٹ جیسی شکایات زیادہ سامنے آئیں، اگرچہ تحقیق میں کوئی سنگین مضر واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات، الہان عمر پانچویں بار کانگریس کی رکن منتخب
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ ذیابیطس کی ریمیشن کا مطلب بیماری کا ہمیشہ کے لیے مکمل خاتمہ نہیں۔ اس تحقیق میں ریمیشن کی تعریف کے مطابق خون میں شوگر کا اوسط پیمانہ، یعنی ایچ بی اے ون سی، 6.5 فیصد سے کم ہونا اور کم از کم 12 ہفتوں تک شوگر کم کرنے والی ادویات استعمال نہ کرنا شامل تھا۔







