بیجنگ (پاک ترک نیوز )چین نے سونے، نکل، رینیم اور دیگر اہم معدنیات کے ذخائر میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا ہے، جبکہ شمال مغربی علاقے سنکیانگ میں زرکون ریت کا ایک بڑا ذخیرہ بھی دریافت کر لیا گیا ہے۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق وزارت قدرتی وسائل نے بتایا کہ معدنی ذخائر کے ملک گیر جائزے کے دوران رینیم کے ثابت شدہ وسائل میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سونے کے ذخائر میں 50 بڑے معدنی ذخائر کے برابر اضافہ ہوا، جبکہ نکل کے ذخائر میں 30 بڑے ذخائر کے مساوی اضافہ سامنے آیا۔
وزارت کے مطابق گیلیم، جرمینیم اور انڈیم سمیت 13 معدنیات کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گیلیم، انڈیم، ٹینٹلم اور وینیڈیم کے وسائل میں بھی ہر ایک کے لیے 10 سے زائد بڑے معدنی ذخائر کے برابر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چین نے 2024 میں 17 اہم معدنیات کے ذخائر کا ملک گیر جائزہ شروع کیا تھا، جس میں 1800 سے زائد فعال کانوں اور بڑے و درمیانے درجے کے کان کنی کے علاقوں کو شامل کیا گیا۔
وزارت قدرتی وسائل کے مطابق ایک سالہ جائزے میں ایسے معاون اور کم معیار کے معدنی وسائل کی بھی نشاندہی کی گئی جنہیں موجودہ ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کے حالات میں معاشی طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وزارت کے ایک عہدیدار کے مطابق اس جائزے سے چین کے 14ویں پانچ سالہ منصوبے برائے 2021 سے 2025 کے تحت معدنیات کی تلاش کے اہداف کی تکمیل میں مدد ملی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو تقویت حاصل ہوئی۔
دوسری جانب وزارت نے بتایا کہ شمال مغربی سنکیانگ کے علاقے آکسو پریفیکچر کی بائی چینگ کاؤنٹی میں زرکون ریت کا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نیوز کے مطابق دریافت شدہ ذخیرے کا حجم 40 سے زائد بڑے زرکون ذخائر کے برابر ہے، جبکہ اس کے ساتھ موجود ہافنیم کا ذخیرہ بھی انتہائی بڑے درجے کا قرار دیا گیا ہے۔
زرکونیم ایک چاندی مائل سرمئی دھات ہے، جو زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے اور زنگ سے محفوظ رہنے کی خصوصیات رکھتی ہے۔ اسے جوہری ری ایکٹروں میں ایندھن کی سلاخوں کی تہہ اور خلائی و ہوابازی کے شعبوں میں استعمال ہونے والے خصوصی مرکبات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ہافنیم بھی زرکونیم کے ساتھ پایا جاتا ہے اور اسے جوہری ری ایکٹروں کی کنٹرول سلاخوں، راکٹ انجنوں اور خلائی جہازوں کی حرارت سے محفوظ رکھنے والی تہوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
وزارت کے مطابق دنیا میں زرکون کے ذخائر کی تقسیم غیر مساوی ہے، عالمی ذخائر کا تقریباً 70 فیصد آسٹریلیا میں موجود ہے، جبکہ چین کے پاس ایک فیصد سے بھی کم ذخائر ہیں۔
چینی وزارت کا کہنا ہے کہ نئی دریافت سے ملک میں بڑے زرکونیم اور ہافنیم ذخائر کی تلاش میں موجود کمی دور کرنے اور ان دونوں اہم دھاتوں کی فراہمی کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔












