
از: سہیل شہریار
پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی سے 20 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔
ٹیلی کام اور آئی ٹی کے شعبوں میں جاری اصلاحات اور انفراسٹرکچر کی توسیع کے باعث پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات سے اگلے چار سالوں میں 20 ارب ڈالر کا معاشی اثر پیدا ہونے کی توقع ہے۔
حکومت پاکستان ایک مضبوط ڈیجیٹل بنیا د استوارکرنے کے لیے پرعزم ہے جو قومی ترقی اور علاقائی تعاون کو فروغ دے۔جبکہ دنیا تیزی سے نئی ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہی ہے۔تو پاکستان بھی "ڈیجیٹل نیشن” کے وژن کے مطابق کام کر رہا ہے۔ جس میں براڈ بینڈ کی توسیع، ڈیجیٹل شمولیت، اور ریگولیٹری اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ پورے خطے میں رابطوں کو مضبوط کیا جا سکے۔ پاکستان جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ ڈیجیٹلائزیشن اور سرحد پار ڈیٹا گورننس کے لیے نئے فریم ورک بنانے میں تعاون کررہا ہے۔
پاکستان کی ڈیجیٹل پیشرفت کے سلسلے میں جنوری 2025 میں منظور ہونے والے ڈیجیٹل نیشن بل نے ویژن 2030 کے تحت اہم اقدامات کی راہ ہموار کی ہے۔ ان میں 1000 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی دستیابی کو یقینی بنانا، نادرا کے ساتھ ڈیٹا ایکسچینج لیئر کا آغاز، اور وزیر اعظم کی ذاتی نگرانی کے ذریعے کیش لیس معیشت کی طرف پیش قدمی، باقاعدگی سے کیش لیس معیشت کی طرف بڑھنا شامل ہے۔ پاکستان نے نیشنل فابرائزیشن پالیسی پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔ جبکہ متعدد وفاقی محکموں اور صوبائی حکومتوں نے رائٹ آف وے کے چارجز کو ختم کر دیا ہے۔
پاکستان نےبیس کروڑ موبائل صارفین حاصل کیے ہیں، اور ٹیلی کام سیکٹر قومی خزانے میں 1.3 کھرب روپے سالانہ کا حصہ ڈال رہا ہے۔ آئی ٹی برآمدات نے پچھلے تین سالوں میں مسلسل 20 فیصد سالانہ نمو ریکارڈ کی ہے۔ جسے سپیکٹرم اصلاحات، منصوبہ بند 600 میگاہرٹز سپیکٹرم نیلامی، اور موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) فریم ورک کے آئندہ آغاز سے تعاون حاصل ہو رہا ہے۔











