سرگودھا ( پاک ترک نیوز) سرگودھا کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا نے اپنی انتھک محنت اور عزم سے وہ مقام حاصل کر لیا ہے جس نے انہیں پاکستان کی خواتین باکسنگ کی تاریخ کا اہم نام بنا دیا ہے۔
دولتِ مشترکہ کھیلوں میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرکے فاطمہ زہرا نے پاکستان کے لیے خواتین باکسنگ کا پہلا تمغہ یقینی بنایا، تاہم ان کی کامیابی کے پیچھے برسوں کی جدوجہد، محدود وسائل اور بے شمار قربانیاں پوشیدہ ہیں۔
فاطمہ زہرا کے والد ثاقب نور ضلع تدریسی ہسپتال سرگودھا میں ملازم ہیں۔ وہ خود بھی نوجوانی میں مارشل آرٹس سے وابستہ رہے، لیکن معاشی حالات کے باعث اپنا شوق ترک کرنا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے خواب اپنی بیٹیوں کے ذریعے پورے کریں گے۔
گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ثاقب نور سرکاری ملازمت کے بعد باربی کیو کا اسٹال بھی لگاتے تھے، جہاں فاطمہ زہرا اور ان کی بڑی بہن دعا زہرا والد کا ہاتھ بٹاتیں۔ فاطمہ مرغی صاف کرنے، مصالحہ لگانے اور اسٹال کی تیاری میں حصہ لیتی تھیں۔
سرگودھا میں خواتین کے لیے کھیلوں کی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں، اس لیے والد خود بیٹیوں کی ورزش کراتے، خوراک کا خیال رکھتے اور روزانہ انہیں سکول اور باکسنگ کلب لے جانے اور واپس لانے کی ذمہ داری بھی نبھاتے رہے۔
ابتدائی دنوں میں خاندان کو معاشرتی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں نے لڑکیوں کے باکسنگ کھیلنے پر اعتراضات کیے، مگر والد نے ہمت نہیں ہاری اور ہر مشکل میں اپنی بیٹیوں کا ساتھ دیا۔
بعد ازاں بین الاقوامی باکسر راحیل عدنان نے سرگودھا میں خواتین کے لیے باکسنگ کلب قائم کیا تو فاطمہ اور ان کی بہن نے باقاعدہ تربیت شروع کی۔ اس وقت کلب میں بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہاکی ورلڈ کپ کے لیے 20 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان
کوچ راحیل عدنان نے اپنی تنخواہ سے پیسے بچا کر مسترد شدہ مگر قابلِ استعمال باکسنگ دستانے اور دیگر سامان خریدا، جبکہ کھلاڑی مختلف مقامات پر مشق کرنے پر مجبور تھے۔
فاطمہ زہرا نے 2018 میں اپنے کیریئر کا پہلا مقابلہ ہارا، لیکن اس شکست کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا۔ ان کے والد کے مطابق لاہور سے واپسی پر فاطمہ نے عزم کیا تھا کہ وہ ایک دن سونے کا تمغہ ضرور جیتیں گی، اور پھر مسلسل محنت کے بعد قومی سطح پر ایک کے بعد ایک کامیابیاں سمیٹتی چلی گئیں۔
فاطمہ زہرا، جو باکسنگ حلقوں میں ہنی باکسر اور جنونی باکسر کے نام سے بھی پہچانی جاتی ہیں، متعدد قومی اعزازات اپنے نام کر چکی ہیں اور پاکستان آرمی کی نمائندگی بھی کر رہی ہیں۔
پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ فاطمہ زہرا کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر باصلاحیت کھلاڑیوں کو مناسب سہولیات، تربیت اور سرپرستی میسر آئے تو وہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام مزید روشن کر سکتے ہیں۔









