بشکیک(پاک ترک نیوز) کرغزستان کی جھیل ایسک کول کے کنارے منعقدہ سربراہی اجلاس میں وسطی ایشیا کی پانچ ریاستوں اور آذربائیجان کے رہنماؤں نے بحیرۂ کیسپین کے ذریعے علاقائی روابط، تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے "چولپون آتا اعلامیے” میں خطے میں امن، باہمی اعتماد، اچھے ہمسایہ تعلقات اور پائیدار ترقی کے اصولوں سے وابستگی کا اعادہ کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق شریک ممالک نے تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اس اجلاس کے ساتھ آذربائیجان کو پہلی مرتبہ وسطی ایشیائی تعاون کے فورم کا باقاعدہ رکن بنا دیا گیا، جس کے بعد پانچ ممالک پر مشتمل C5 پلیٹ فارم اب C6 کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
کرغزستان کے صدر صدر جپاروف نے کہا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی رکنیت کے دوران C6 ممالک کے مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے گا، جبکہ آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات ان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
اجلاس کے موقع پر کئی دوطرفہ معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔ ازبکستان اور کرغزستان نے اتحادی تعلقات کے معاہدے سمیت متعدد دستاویزات پر دستخط کیے، جبکہ آذربائیجان اور کرغزستان کے درمیان ٹرانسپورٹ، توانائی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کے معاہدے طے پائے۔
دوسری جانب پاکستان نے قازقستان کو ایرانی بندرگاہوں کے متبادل کے طور پر کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کی سہولیات استعمال کرنے کی پیشکش کی ہے۔ قازقستان کے سفیر یرژان کستافین نے 29 جولائی کو وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری سے ملاقات کی، جس میں بندرگاہوں، شپنگ، تجارتی سہولت اور علاقائی روابط کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پاکستانی حکومت کے مطابق اسلام آباد قازقستان کے ساتھ سمندری تجارت اور لاجسٹک تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
ادھر آذربائیجان، ترکمانستان اور ازبکستان نے سرحد پار تجارت کو تیز بنانے کے لیے eTIR نامی جدید ڈیجیٹل کسٹمز نظام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے کاغذی کارروائی کی جگہ الیکٹرانک اندراجات استعمال کیے جائیں گے، جس سے کسٹمز کلیئرنس کا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا میں موٹرسائیکلوں کے لیے پہلی مخصوص لین بنانے کا فیصلہ
ابتدائی آزمائشی مرحلے میں آذربائیجان سے ترکمانستان کے راستے ازبکستان تک الیکٹرانک دستاویزات کے ذریعے سامان بردار ٹرک روانہ کیے گئے، جبکہ بحیرۂ کیسپین کے ذریعے بھی کئی تجارتی گاڑیاں کامیابی سے منتقل کی گئیں۔ آذربائیجان کی کسٹمز سروس کے مطابق eTIR نظام سے مڈل کوریڈور کی کشش میں اضافہ ہوگا اور اس راستے سے تجارتی سامان کی نقل و حمل مزید تیز اور مؤثر بنے گی۔
علاقائی روابط کے فروغ کے لیے نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ پالیسی نے سلک سیون پلس (S7+) کے نام سے ایک جامع منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جس کا مقصد بحیرۂ کیسپین سے بحیرۂ عرب تک تجارتی راہداری قائم کرکے گریٹر وسطی ایشیا کی اقتصادی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرنا اور خطے کے ممالک کی خودمختاری اور باہمی اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔












