تہران: (پاک ترک نیوز) وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ایران نے جنگ کا بٹن دبا دیا ۔ ایرانی افواج کی جانب سے کروز میزائل، کشتیوں کے ذریعے حملے اور دیگر میزائل فائر کیے گئے، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے 30 فیصد سے زائد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، وہاں ایران نے فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔
یہ مشقیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے انتباہ ہیں کہ اگر ایران پر کوئی حملہ کیا گیا تو نتیجہ شدید ہوگا۔دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق، مشقوں میں ایران نے جدید میزائل ٹیکنالوجی استعمال کی، جن میں "فتح” اور "قادر” میزائل شامل ہیں۔
کشتیوں کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں متعدد کشتیوں کو ایک مشن پر روانہ کیا گیا اور ان پر موجود میزائل استعمال کیے گئے، جو 300 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دنیا اس وقت پریشان ہے کہ اگر یہ میزائل حقیقی جنگ میں استعمال ہوئے تو عالمی حالات سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایران کی یہ مشقیں ایسے وقت کی جارہی ہیں جب جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے۔
امریکہ نے اپنے 26 ارب ڈالر کے بحری بیڑے کو مشرق وسطی میں روانہ کیا تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے، اور ایران نے اس کا جواب مشقوں کے ذریعے دیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ عالمی اتحادی، بشمول اسرائیل، اس صورتحال پر شدید پریشان ہیں کیونکہ اگر ایران ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا ہے اور دنیا کے 30 فیصد تیل کی ترسیل رک جاتی ہے تو تیل کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں گی۔
امریکہ مذاکرات کے دوران دھمکیاں بھی دے رہا ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر بند کرے، لیکن ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جوہری پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔












