ریاض ( پاک ترک نیوز) سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری انسپکشن مہم کے دوران سعودائزیشن (مقامی افراد کو ملازمتوں میں ترجیح دینے کی پالیسی) سے متعلق 80 ہزار سے زائد خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں، جن پر نجی شعبے کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
وزارت کے مطابق خلاف ورزیوں کی نشاندہی ایک جدید ڈیجیٹل اور فیلڈ انسپکشن سسٹم کے ذریعے کی گئی، جو لیبر قوانین اور سعودائزیشن کے فیصلوں پر عمل درآمد کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام جدید الیکٹرانک پلیٹ فارمز کے ذریعے اداروں کے ڈیٹا کا مسلسل تجزیہ کرتا ہے، مشتبہ خلاف ورزیوں کی فوری نشاندہی کرتا ہے جبکہ انسپکشن ٹیمیں موقع پر جا کر اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اداروں میں موجود ملازمین اور رجسٹرڈ معلومات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔
وزارت کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران نجی شعبے کے اداروں میں 5 لاکھ سے زائد انسپکشنز کی گئیں، جن کے نتیجے میں 2 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔اسی عرصے میں قوانین پر عمل نہ کرنے والے اداروں کو 50 ہزار سے زائد انتباہی نوٹس دیئے گئے۔
وزارت نے بتایا کہ انسپکشن مہم کے دوران 2 لاکھ سے زائد نجی ادارے ایسے بھی پائے گئے جنہوں نے لیبر قوانین، ضوابط اور وزارتی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کیا، جو کاروباری شعبے میں قوانین کی بڑھتی ہوئی پاسداری کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں ملازمت کیلئے سخت قوانین نافذ
بیان کے مطابق انسپکشن مہم میں سعودائزیشن پر خصوصی توجہ دی گئی، جہاں مختلف پیشوں اور کاروباری سرگرمیوں میں مقامی افراد کی لازمی بھرتی سے متعلق فیصلوں پر عمل نہ کرنے کے باعث 80 ہزار سے زائد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اسمارٹ انسپکشن سسٹم نے نگرانی کے عمل کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنا دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف 2026 کے پہلے نصف میں متعارف کرائے گئے اسمارٹ انسپکشن سسٹم کی مدد سے 60 ہزار سے زائد خلاف ورزیوں کا سراغ لگایا گیا، جس سے لیبر مارکیٹ میں قوانین پر عمل درآمد کی نگرانی مزید مضبوط ہوئی ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ لیبر مارکیٹ کو منظم بنانے، سعودی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور نجی شعبے کو قوانین کا پابند بنانے کے لیے انسپکشن مہم آئندہ بھی اسی شدت سے جاری رکھی جائے گی۔











