
از: سہیل شہریار
بلیک مارکیٹ میں ڈالر کی تجارت کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں پاکستانی روپیہ مسلسل دس روز سے مضبوط ہورہا ہے۔مگر مارکیٹ میں انڈر دی کاؤنٹر سودے تیزی سے اسمارٹ فونز اور ہوم ڈیلیوری پر منتقل ہوگئے ہیں۔
22 جولائی کے بعد سے کئی غیر لائسنس یافتہ ایکسچینج شاپس بند کر دی گئی ہیں۔جبکہ کریک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد، روپیہ جولائی کے شروع میں ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے گرنے سے واپس لوٹ آیا ہے۔ روپیہ اوپن مارکیٹ میں 19 جولائی کو 288روپےفی ڈالر سے اب دس دنوں میں تقریباً 285 تک پہنچ گیا ہے۔تاہم کرنسی کے تاجروں اور بنکاروں کی رائے ہے کہ کریک ڈاؤن کے اثرات مختصر وقت کے لیے ہوسکتے ہیں۔اس مسئلے کے مستقل حل کے لئےمارکیٹ کی قوتوں کو ملا کر بنیادی انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بصورت دیگر ہمیںروپے کی قیمت کو مستحکم کرنے کے لئے تھوڑے تھوڑے عرصے بعد انتظامی مداخلت اور کریک ڈاؤنز کی ضرورت پڑتی رہے گی
پاکستانی روپیہ آج منگل کے روز امریکی ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں لگاتار10ویں دنبہتری کے ساتھ بند ہوا۔
https://www.youtube.com/watch?v=A8Vw0hMn3Hg
یومیہ بنیاد پر انٹربینک کی شرح 282.55 وپے فی ڈالرپر بحال ہوئی اور بند ہونے سے پہلے دن کے بیشتر حصے میں 282.45روپے فی ڈالر رہی۔ متعدد کرنسی کاؤنٹرز پر اوپن مارکیٹ کے نرخ آج285 کی سطح پرمستحکم رہے۔
https://www.youtube.com/shorts/lFZrH4RPWt0
تاہم دن کے دوران انٹر بنک میں دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میںپاکستانی روپے کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی ۔ چنانچہ یو اے ای درہم اور سعودی ریال کے مقابلے میں روپیہ 3سے5پیسے گرا۔ کینیڈین ڈالر کےمقابلے میں 1.29روپے، آسٹریلین ڈالر کے مقابلے میں 1.17روپے، یورو کے مقابلے میں 4.05 روپے اور برطانوی پاؤنڈکے مقابلے میں روپے کی قدر میں 2.53روپے کمی ہوئی۔












