لاہور( پاک ترک نیوز) آرکٹک کے برفیلے اور دشوار گزار علاقے میں کان کنوں نے ایک نایاب 158 قیراط وزنی پیلا ہیرا دریافت کیا ہے، جسے ماہرین حالیہ برسوں کی اہم ترین معدنی دریافتوں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ قیمتی پتھر دسیوں ملین ڈالر مالیت کا ہو سکتا ہے، جبکہ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ یہ ہیرا تقریباً دو ارب سال تک زمین کی تہوں میں دفن رہا۔
یہ غیر معمولی ہیرا آرکٹک کے ایک دور افتادہ کان کنی کے مقام سے نکالا گیا، جہاں شدید سرد موسم، برفانی طوفانوں اور محدود سہولیات کے باوجود کان کنی کا عمل جاری رکھا جاتا ہے۔ کان کنی کمپنی کے مطابق ہیرا اپنی جسامت، رنگ اور شفافیت کے باعث انتہائی منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ پیلے رنگ کے ہیرے دنیا بھر میں نسبتاً کم پائے جاتے ہیں، تاہم اس درجے کے بڑے اور خالص پتھر کی دریافت نہایت نادر سمجھی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ہیرا زمین کے اندر انتہائی دباؤ اور درجہ حرارت کے نتیجے میں لاکھوں نہیں بلکہ اربوں سال قبل تشکیل پایا۔
بعد ازاں آتش فشانی سرگرمیوں کے ذریعے یہ قیمتی پتھر زمین کی بالائی سطح کے قریب آیا، جہاں جدید کان کنی کے ذریعے اسے دریافت کیا گیا۔ ارضیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے زمین کی قدیم ساخت اور معدنیاتی عمل کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔کان کنوں نے بتایا کہ ہیرا نکالنے کے بعد اسے خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کی مزید جانچ کی جا رہی ہے۔ ماہرین اس کے معیار، رنگ کی شدت اور اندرونی ساخت کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کی حتمی قیمت کا تعین کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ڈالر زرمبادلہ کرنسی کی حیثیت کھونے لگا
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ ہیرا اعلیٰ درجے کی تراش خراش کے بعد زیورات کی صنعت میں استعمال کیا گیا تو اس کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔عالمی سطح پر نایاب ہیرے ہمیشہ سرمایہ کاروں، کلیکٹرز اور جیولری انڈسٹری کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
ماضی میں بھی بڑے سائز کے قیمتی ہیرے نیلامیوں میں ریکارڈ قیمتوں پر فروخت ہوتے رہے ہیں، جس کے باعث اس نئے دریافت ہونے والے ہیرے کے حوالے سے بھی غیر معمولی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف کان کنی کے شعبے کے لیے اہم ہے بلکہ یہ قدرت کے ان پوشیدہ خزانوں کی بھی یاد دہانی ہے جو آج بھی زمین کی گہرائیوں میں موجود ہیں اور وقتاً فوقتاً دنیا کو حیران کرتے رہتے ہیں۔












