
از: سہیل شہریار
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منگل کے روز اقوام متحدہ میں آٹھ اہم اسلامی ملکوں کی قیادت سے ہونے والے بند کمرہ اجلاس میں انکی جانب سے پیش کئے گئے 21نکاتی امن منصوبے کے مندرجات سامنے آ گئے ہیں۔
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ جو 21 نکات پر مشتمل ہے اسے اسلامی قیادت نے سراہا ہے۔ میرا خیال ہے یہ منصوبہ اسرائیل کے خدشات کے ساتھ ساتھ خطے کے دوسرے ہمسایہ ممالک کے تحفظات کو بھی دور کرتا ہے۔ ہم پرامید ہی نہیں، بلکہ پُراعتماد ہیں کہ جلد ہی ہم پیش رفت کا اعلان کر سکیں گے۔
https://www.youtube.com/watch?v=Ah9I6OhmNYc&t=3s
امریکی صدر کے 21نکاتی امن منصوبے کے امریکی اور عرب میڈیا کی جانب سے اپنے اپنے ذرائع سے حاصل کردہ مندرجات کے مطابق ان میں سرفہرست جنگ کا خاتمہ اور قیدیوں کی رہائی ہے۔جس کے بعد اسرائیل کا غزہ سے بتدریج انخلا اور عالمی اداروں کے ذریعے امداد کی فراہمی ہیں۔ پھرغزہ میں حماس کے بغیر حکومتی ڈھانچے کی تشکیل۔ایک سکیورٹی فورس کا قیام جس میں فلسطینی اور عرب و اسلامی ممالک کی فورسز شامل ہوں۔نئی انتظامیہ اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے عرب و اسلامی فنڈنگ اور فلسطینی اتھارٹی کی جزوی شمولیت اہم نکات ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یقین دلایا ہے کہ "غزہ میں جنگ چند دنوں میں رک جائے گی”۔اور ٹرمپ کا منصوبہ "غزہ پر قبضے کو خارج از امکان قرار دیتا ہے۔جبکہ جنگ بندی کے فوری بعد امداد غزہ میں داخل ہوگی۔ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ نےاسلامی قیادت کے سامنے زور دیا کہ جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیےکیونکہ اس کا تسلسل اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہا کر دے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ اسرائیل کی مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کاروائیوں کے معاملے پر خاصے سخت تھے اور واضح کیا کہ مغربی کنارہ فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت ہے۔ حماس کے نہیں۔ لہٰذا اسرائیل اسے ضم نہیں کر سکتا۔اس موقع پر ٹرمپ کی ٹیم نے ایک دستاویز بھی پیش کی جس میں جنگ کے بعد کے سیاسی و سلامتی کےامور اور مغربی کنارے کو ضم نہ کرنے کی ضمانت شامل تھی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بند کمرہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ نے مختصر گفتگو میں کہاکہ یہ میری سب سے اہم ملاقات ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کے عظیم رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم اجلاس ہے۔ ہم غزہ کی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور یہ کریں گے۔ ممکن ہے ابھی کر سکیں۔انہوں نے کہاکہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ نہ ہو تو زندگی بہتر ہوگی۔ ہم قیدیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے پر بات کریں گے۔ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اجلاس کے بعد خطے کے دیگر رہنماؤں سے بشمول اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے رابطہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال بہت طول پکڑ چکی ہے، ہم اس کا خاتمہ چاہتے ہیں اور قیدیوں کی رہائی بھی چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی عمارت سے روانگی کے وقت ٹرمپ نے کہا کہ "آج ہم نے غزہ کے بارے میں بہت اچھا اجلاس کیا۔ یہ خطے کے اہم رہنماؤں کے ساتھ انتہائی کامیاب ملاقات تھی۔ اسرائیل اس میں شامل نہیں تھا، لیکن میں ان سے بھی ملوں گا۔ ہم غزہ سے متعلق مسائل پر کام کریں گے اور آج ہم نے ایک نہایت مثبت اجلاس کیا ہے”۔












