تہران ( پاک ترک نیوز )تہران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے یورپی ملکوں کے ٹرائیکا ای تھری جن میں جرمنی ، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ کے چند گھنٹے قبل احتجاج کے طور پر ان ملکوں سے اپنے سفیروں کو مشاورت کے لئے واپس بلالیا ہے۔
اس سے پہلے مگر ایران نے کل اپنے قومی رہبر علی خامنہ ای کی موجودگی میں تصدیق کی کہ وہ دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پابندیوں کے دور میں داخل ہونا اب قریب ہے۔ آج ہفتے کی شام کو ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی جو 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت معطل کی گئی تھیں۔تہران نے سہہ ملکی یورپی گروپ ای تھری کے ذریعے ٹرگر میکانزم کے فعال ہونے کو "غیر ذمہ دارانہ اور ظالمانہ” فیصلہ قرار دیا۔
جمعہ کو روس اور چین کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد ایران پر پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا راستہ اس وقت ہموار ہوا، جب سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس میں صرف چار ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ اقدام تہران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی دھمکی کے بعد آیا، جس کے ساتھ ایران نے روان مہینے نو ستمبر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک نیا تعاون معاہدہ بھی کیا تھا۔












