لاہور( پاک ترک نیوز) موبائل فون سے لے کر الیکٹرک گاڑیوں تک۔۔۔ آج کی دنیا بیٹریوں پر چل رہی ہے، لیکن بیٹری بنانے میں استعمال ہونے والا لیتھیم مہنگا بھی ہے اور اس کے ذخائر بھی محدود ہیں۔اب سائنسدانوں نے ایک ایسے متبادل پر کام تیز کردیا ہے جو عام نمک میں موجود ایک عنصر سے تیار کیا جاسکتا ہے
اور حیران کن طور پر اس کی جدید ٹیکنالوجی 200 واٹ آور فی کلوگرام توانائی کثافت کے قریب پہنچ چکی ہے۔
سائنسدان اب اسی نسبتاً سستے اور وافر عنصر کو توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
سوڈیم آئن بیٹری میں چارجنگ کے دوران سوڈیم آئنز ایک الیکٹروڈ سے دوسرے الیکٹروڈ کی طرف منتقل ہوتے ہیں، جبکہ ڈسچارج کے دوران یہی عمل الٹ ہوجاتا ہے اور بجلی پیدا ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سوڈیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ دنیا کے مختلف علاقوں میں وافر مقدار میں موجود ہے۔
یعنی لیتھیم کے مقابلے میں خام مال کی دستیابی زیادہ۔۔۔اور مستقبل میں لاگت بھی کم ہوسکتی ہے۔اسی وجہ سے سوڈیم آئن بیٹریوں کو الیکٹرک گاڑیوں، شمسی توانائی، صنعتی استعمال اور بڑے پیمانے پر بجلی ذخیرہ کرنے کے لیے اہم متبادل سمجھا جارہا ہے۔
لیکن ابھی یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر لیتھیم آئن بیٹریوں کا مقابلہ نہیں کرسکی۔موجودہ سوڈیم آئن بیٹریوں کی توانائی کثافت تقریباً 100 سے 160 واٹ آور فی کلوگرام ہے۔۔۔
جبکہ جدید ترین تجرباتی بیٹریاں 200 واٹ آور فی کلوگرام کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بہتر الیکٹرولائٹس اور جدید الیکٹروڈ مواد نے توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سوڈیم آئن بیٹریوں کے سامنے کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں ان کی سائیکل لائف کم ہوسکتی ہے۔۔۔اور چارجنگ کے دوران بیٹری کے اندر موجود مواد میں حجم کی تبدیلی بھی ایک مسئلہ ہے۔اسی لیے سائنسدان ایسے نئے مواد تیار کررہے ہیں جو بیٹری کو زیادہ مضبوط، محفوظ اور دیرپا بنا سکیں۔
خاص طور پر الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں میں سوڈیم آئن بیٹریاں کم قیمت متبادل فراہم کرسکتی ہیں۔
لیکن معاملہ صرف گاڑیوں تک محدود نہیں۔شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کو جب فوری استعمال نہ کیا جاسکے تو اسے ذخیرہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔۔اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سوڈیم آئن بیٹریاں مستقبل میں بڑا کردار ادا کرسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سولر انقلاب،اب دوڑ صرف پینلز کی نہیں، بیٹریوں کی ہے
تصور کریں۔۔۔سورج ڈوب گیا، سولر پینلز نے بجلی بنانا بند کردی۔۔۔لیکن دن کے وقت ذخیرہ کی گئی توانائی رات بھر گھروں اور صنعتوں کو بجلی فراہم کرتی رہے۔اسی طرح بجلی کے قومی نظام میں طلب اور رسد کے درمیان فرق کو متوازن کرنے کے لیے بھی یہ بیٹریاں استعمال کی جاسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل کی کامیابی صرف بیٹری کے ایک حصے میں نہیں بلکہ پورے نظام میں بہتری سے حاصل ہوگی۔لیتھیم کی قیمت، دستیابی اور ماحولیاتی اثرات نے دنیا کو نئے متبادل تلاش کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
مستقبل کی بیٹری ٹیکنالوجی کا اہم کردار بننے کی دوڑ میں شامل ہوگیا ہے۔100 سے 160 واٹ آور فی کلوگرام سے 200 واٹ آور فی کلوگرام کے قریب پہنچتی ٹیکنالوجی۔۔۔
اگر سائنسدان اس رفتار سے سوڈیم آئن بیٹری کی کارکردگی بہتر کرتے رہے تو ممکن ہے مستقبل کی سستی الیکٹرک گاڑیوں اور بڑے توانائی ذخیرہ کرنے والے نظاموں میں لیتھیم کے بجائے سوڈیم نمایاں نظر آئے۔











