بیجنگ ( پاک ترک نیوز) یہ جنگ ہتھیاروں سے نہیں… پیسے سے لڑی جا رہی ہے۔گزشتہ 20 سالوں میں چین نے خاموشی سے ایسا معاشی جال بچھایا کہ دنیا کی بڑی معیشتیں بھی اس کے اثر سے نہ بچ سکیں۔ 20 سال میں 1.5 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری، کن ممالک نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا؟
امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ اور ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے ڈیٹا کے مطابق، 2005 سے 2025 تک چینی کمپنیوں نے بیرون ملک 1.5 ٹریلین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی۔حیران کن طور پر اس کا آدھے سے زیادہ حصہ صرف 10 ممالک میں گیا۔
سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ جو ممالک چین کے سب سے بڑے حریف سمجھے جاتے ہیں ،وہی اس کے سب سے بڑے معاشی پارٹنر نکلے
معاشی پارٹنر بھی نکلے!
چین نے سب سے زیادہ سرمایہ کاری امریکا میں کی ، یعنی معاشی میدان میں مقابلہ کرنے والی دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے پر ہی انحصار بھی کر رہی ہیں،امریکا میں سب سے زیادہ 204 اعشاریہ چودہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ،آسٹریلیا میں 108اعشاریہ بارہ ، برطانیہ میں ایک سو چھ اعشاریہ اٹھاون ، برازیل میں 78اعشاریہ 88، سوئٹزرلینڈ میں 62اعشاریہ 87، کینیڈا میں 57اعشاریہ 28۔ جرمنی میں 56اعشاریہ 34ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی،انڈونیشیا ،سنگا پور ،فرانس ،روس ،پیرو،ملائیشیا ،اٹلی ،کاغزستان میں بھی چین نے سرمایہ کاری کی
یہ تمام سرمایہ کاری زیادہ تر توانائی، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں کی گئی۔چین نہ صرف منافع کما رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری صرف کاروبار نہیں،بلکہ ایک بڑی اسٹریٹجی ہے، جس کے ذریعے چین عالمی منڈیوں، وسائل اور اہم راستوں پر اپنا اثر بڑھا رہا ہے۔
کیا یہ سرمایہ کاری عالمی معیشت کو جوڑ رہی ہے… یا ایک نئی معاشی جنگ کی بنیاد رکھ رہی ہے؟فیصلہ آنے والا وقت کرے گا!












